1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسپین اور پرتگال کو اربوں یورو جرمانہ نہیں ہو گا

یورپی یونین کے مطابق ہسپانوی اور پرتگیزی حکومت کی طرف سے اپنے عوامی اخراجات میں کمی کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکامی کے باوجود ان پر جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے یورپی یونین کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسپین اور پرتگال کی طرف سے بجٹ خسارے پر قابو پانے کے اقدامات کے تناظر میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان دونوں ممالک کی طرف سے حکومتی خسارے پر قابو پانے کی مؤثر کوشش نہ کرنے کے باوجود ان پر جرمانہ نہیں کیا جائے گا۔

یورپی یونین کے ضوابط کے مطابق یورو زون کی ہر رکن ریاست کو اپنی قومی مجموعی پیداوار کے مقابلے میں اپنے بجٹ خسارے کو تین فیصد کی حد میں رکھنا ہوتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس بلاک کے ممالک میں کسی ممکنہ اقتصادی بحران کے سر اٹھانے سے قبل ہی ضروری اقدامات اٹھا لیے جائیں۔

یورپی کمیشن کے مطابق یورو زون کی ایسی رکن ریاست جن کے اخراجات مروجہ ضوابط سے زیادہ ہوں گے، انہیں ان کی قومی مجموعی پیداوار کی نسبت سے 0.2 فیصد جرمانا عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس فارمولے کے تحت اسپین کو دو ملین یورو جبکہ پرتگال کو دو سو ملین یورو کا جرمانا ہو سکتا تھا۔

پرتگال نے گزشتہ برس اپنے حکومتی خسارے کو تین فیصد تک کم کرنا تھا لیکن لزبن حکومت اس سلسلے میں ناکام ہو گئی ہے۔ اسپین نے رواں سال کے اختتام تک اس یورپی گائیڈ لائن پر عمل کرنا ہے لیکن اندازوں کے مطابق میڈرڈ حکومت بھی اس ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

اٹھائیس رکنی یورپی یونین نے پرتگال کو اس ہدف کی تکمیل کے لیے ایک سال کے اضافی وقت کی مہلت دی ہے جبکہ اسپین کو دو سال کا اضافی وقت دیا گیا ہے۔ یعنی اب پرتگال نے سن دو ہزار سولہ کے اختتام تک جبکہ اسپین نے سن دو ہزار اٹھارہ کے اواخر تک اپنے اپنے بجٹ خسارے کو تین فیصد کے اندر اندر لانا ہو گا۔

EU Börse Euro Münzen

یورو زون کی ہر رکن ریاست کو اپنی قومی مجموعی پیداوار کے مقابلے میں اپنے بجٹ خسارے کو تین فیصد کی حد میں رکھنا ہوتا ہے

گزشتہ ماہ ہی یورپی کمیشن نے تجویز کیا تھا کہ ان دونوں یورپی ممالک کو جرمانہ عائد نہ کیا جائے کیونکہ ان ممالک کو درپیش موجودہ سماجی مسائل کے باوجود ان کی طرف سے کی جانے والی مالی اصلاحات کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔

تاہم کہا گیا ہے کہ ان دونوں ممالک کی طرف سے آئندہ اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا اور انہیں پندرہ اکتوبر تک ان کوششوں کے حوالے سے ایک مفصل رپورٹ بھی تیار کرنا ہو گی۔ ناکامی کی صورت میں انہیں علاقائی سطح پر دی جانے والی امداد کا سلسلہ معطل بھی کیا جا سکتا ہے۔