1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسپين ميں مسيحی نوجوانوں کا عالمی دن

ہسپانوی دارالحکومت ميڈرڈ ميں کل شام مسيحی نوجوانوں کا عالمی اجتماع ’ورلڈ یوتھ ڈے‘ شروع ہو گیا ہے۔21 اگست تک جاری رہنے والے اس اجتماع میں مل جل کر گيت گائے جائيں گے اور مسیحی مذہب کے بارے ميں تبادلہء خيال کيا جائے گا۔

ميڈرڈ ميں مسيحی نوجوانوں کا عالمی دن

ميڈرڈ ميں مسيحی نوجوانوں کا عالمی دن

ميڈرڈ کل شام سے کيتھولک عيسائی نوجوانوں کی بھر پور گرفت ميں ہے۔ شہر کے مرکزی حصے میں ہر جانب صرف پرچم ہی نظر آرہے ہیں۔ سينکڑوں نوجوانوں نے سڑکوں پر ڈيرے ڈال ديے ہيں اور ناچ گانے ہو رہے ہيں۔ شام کے وقت ميڈرڈ کے آرچ بشپ کارڈينل رُوکو واريلا نے مسيحی نوجوانوں کے عالمی دن کا افتتاح کيا: ’’ميڈرڈ ميں نوجوانوں کے اس 26 ويں عالمی دن پرخوش آمديد۔ پوپ بينيڈکٹ نے تين سال قبل سڈنی ميں اس کی دعوت دی تھی۔‘‘

سن 2005 ميں کولون ميں مسيحی نوجوانوں کا عالمی دن

سن 2005 ميں کولون ميں مسيحی نوجوانوں کا عالمی دن

يہاں کی فضا بہت ہلکی پھلکی اور جشن کی سی ہے۔ اسے ديکھ کر يہ يقين نہيں آتا کہ يورپ اور خاص طور پر اسپين کے نوجوان قرضوں کے يورپی بحران کی وجہ سے انتہائی سخت مشکلات سے گذر رہے ہيں۔ خصوصاً اسپين ميں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح بہت زيادہ ہے۔ چند ہفتے قبل ہسپانوی نوجوانوں نے اپنی بے روزگاری اور سماجی حالت پرميڈرڈ ميں اسی جگہ احتجاجی مظاہرہ کيا تھا، جہاں اس وقت مسيحيت کے جھنڈے تلے نوجوان جمع ہيں۔

پوپ بينيڈکٹ سن 2008 ميں سڈنی ميں مسيحی نوجوانوں کے عالمی دن کے موقعے پر

پوپ بينيڈکٹ سن 2008 ميں سڈنی ميں مسيحی نوجوانوں کے عالمی دن کے موقعے پر

کارڈينل واريلا نے اپنی تقرير ميں نوجوانوں کی مشکلات، اقتصادی بحران اور مذہب کے موضوع پر بات کی۔ انہوں نے روحانی اور اخلاقی غفلت کا گلہ کرتے ہوئے کہا کہ بہت سوں کو اب خود اپنے گھرانوں اور خاندانوں تک کا سہارا بھی حاصل نہيں رہا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو21 ويں صدی ميں خدا سے تعلق کی ضرورت ماضی کی نسلوں سے بھی زيادہ ہے۔

ميڈرڈ ميں مسيحی نوجوانوں کے اس اجتماع ميں جرمنی کے بھی بہت سے نوجوان شريک ہيں۔ ايک 17 سالہ جرمن لڑکی نے کہا: ’’ہميں ايک اسکول ميں ٹہرايا گيا ہے، جہاں گرم پانی تک دستياب نہيں اور ہميں سونا بھی کھلے آسمان تلے پڑتا ہے۔ ليکن پھر بھی اس ميں لطف ہے۔‘‘

ورلڈ یوتھ ڈے پر تنقيد کرنے والوں کی بھی کمی نہيں ہے۔ جرمن ينگ کيتھولکس ايسوسی ايشن نے تنقيد کی ہے کہ يہ اجتماع دن کسی پوپ موسيقی کی محفل کی طرح کا معلوم ہوتا ہے جس ميں سنجيدہ تبادلہء خيلات کا کوئی موقع نہيں ہے۔ 120 کيتھولک مذہبی رہنماؤں نے بڑے صنعتی کاروباری اداروں کی طرف سے ان تقريبات کی سرپرستی پر بھی نکتہ چينی کی ہے۔

آج ميڈرڈ ميں ايک مظاہرے کا بھی اعلان کيا گيا ہے، جس کا انتظام غالباً چرچ کے مخالف نوجوان کر رہے ہيں، جو اپنی سماجی بد حالی کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہيں۔

رپورٹ: ٹلمن کلائن يُنگ، ميڈرڈ / شہاب احمد صديقی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM