1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اسپاٹ فکسنگ کے بعد انگلینڈ اور پاکستان آمنے سامنے

پاکستانی کرکٹ ٹیم ایک نئے عزم اور ولولے کے ساتھ اگلے ماہ متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں انگلینڈ کا مقابلہ کرے گی۔ اسپاٹ فکسنگ کے شرمناک واقعے کے بعد دونوں ٹیمیں پہلی بار آمنے سامنے ہوں گی۔

default

پاکستانی دستے کے قائد مصباح الحق اور کوچ محسن خان دونوں ہی اس سیریز میں کامیابی کے لیے پر عزم ہیں۔ عبوری مدت کے لیے ٹیم کی کوچنگ کرنے والے محسن خان نے کراچی میں بتایا کہ اگرچہ انگلش میڈیا میں پاکستانی ٹیم سے متعلق منفی خبریں دیکھنے میں آ رہی ہیں تاہم قومی ٹیم انگلینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں نیا آغاز کرے گی۔

پاکستان اور انگلینڈ کے مابین گزشتہ سال کی سیریز ہی تنازعے کا شکار نہیں ہوئی بلکہ اس سے قبل 2006ء میں انضمام الحق کی کپتانی میں بھی دورہء انگلینڈ تناؤ سے بھرپور رہا۔ اس سیریز کے اوول ٹیسٹ میں آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر نے پاکستانی ٹیم کو گیند سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے جرمانہ عائد کر دیا تھا۔ اگرچہ آئی سی سی ریفری نے پاکستانی ٹیم پر لگا بال ٹیمپرنگ کا الزام واپس لے لیا تھا مگر کپتان انضام الحق کو امپائر سے بدسلوکی کی سزا دی گئی۔

موجودہ کوچ محسن خان کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم نے سری لنکا اور بنگلہ دیش کے خلاف سیریز اپنے نام کر کے اعتماد بحال کیا ہے۔ اپنے ایک تازہ انٹرویو میں محسن خان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں امپائر اور میچ ریفری کا کردار خاصا اہم رہے گا:’’ماضی میں جو ہوا، اُس کو بھلا کر ہم نیا آغاز کرنا چاہتے ہیں، ہم اپنی صلاحیتوں سے اپنے آپ کو منوانا چاہتے ہیں۔‘‘

Kombo Pakistan Cricket Korruption Salman Butt Mohammad Asif und Mohammad Amir

اسپاٹ فکسنگ کے سزا یافتہ پاکستانی کھلاڑی محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ

انہوں نے اس سیریز کے لیے بائیں بازو کے تیز گیند باز وہاب ریاض کو قومی دستے میں شامل کرنے کی بھی وکالت کی اور کہا کہ سیریز کھیلنے والے تمام کھلاڑیوں کو کرکٹ بورڈ کلیئر قرار دے چکا ہے۔ واضح رہے کہ لندن میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے دوران وہاب ریاض کا نام بھی لیا گیا مگر ان پر کسی قسم کا الزام عائد نہیں کیا گیا۔ وہاب ریاض گزشتہ چھ ماہ سے کوئی بین الاقوامی میچ نہیں کھیلے۔

کپتان مصباح الحق کا سیریز سے متلعق کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کے دوران کچھ خامیوں پر قابو پانا اور ٹیسٹ رینکنگ بہتر کرنا اہداف تھے، جو حاصل ہوگئے۔ ان کے بقول انگلینڈ کے خلاف سیریز سخت اور اہم ہے۔ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا تربیتی کیمپ لاہور میں لگے گا، جہاں سے حتمی دستے کے لیے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جائے گا۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 17 جنوری کو کھیلا جائے گا۔ اس سیریز میں تین ٹیسٹ میچوں اور چار ایک روزہ مقابلوں کے ساتھ ساتھ تین ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ بھی کھیلے جائیں گے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت :امجد علی

DW.COM