1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اسپاٹ فکسنگ کے الزامات: ’پاکستانی کھلاڑی قصور وار‘

برطانیہ کی کراؤن پراسیکیوشن سروس نے تین پاکستانی کھلاڑیوں سلمان بٹ، بولر محمد آصف اور محمد عامر پر ایک میچ کے دوران اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی ہے۔

default

اس کیس میں تینوں پاکستانی کرکٹرز کے خلاف برطانیہ میں کریمنل کیس چلایا جائے گا اور کرپشن کے اس کیس میں کھلاڑیوں کو ایک سے دس سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ گیارہ اکتوبر کو پاکستان کی وزارت داخلہ کی طرف سے دی گئی ضمانت پر ان تینوں کھلاڑیوں کو وطن واپسی کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم کھلاڑیوں کو 17 فروری کو دوبارہ برطانیہ طلب کیا گیا ہے۔

پاکستانی کھلاڑیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر الزامات کا سامنا کرنے کے لیے برطانیہ آئیں جیسا کہ انہوں نے گزشتہ سال ستمبر میں وعدہ کیا تھا۔

پراسیکیوشن سروس کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ پاکستانی نژاد مظہر مجید نے پیسے لے کر گزشتہ برس اگست میں انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ کے دوران ان کھلاڑیوں کو پہلے سے طے شدہ وقت پر نو بالز کروانے کے لیے کہا تھا۔

Kombo Pakistan Cricket Korruption Salman Butt Mohammad Asif und Mohammad Amir

تینوں پاکستانی کرکٹرز کے خلاف برطانیہ میں کریمنل کیس چلایا جائے گا

اس پراسیکیوشن کے کرائم ڈویژن کے سربراہ سائمن کلیمنٹس کا کہنا ہے، ’اسپاٹ فکسنگ سے متعلق کافی شواہد موجود ہیں اور ان کھلاڑیوں پر مقدمہ چلانا عوام کے مفاد میں ہے۔‘

پراسیکیوشن سروس کی جانب سے ایک ایسے وقت میں پاکستانی کھلاڑیوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، جب اسپاٹ فکسنگ کے اسی مقدمے کی سماعت کرنے والی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پر مشتمل تین رکنی ٹربیونل نے چھ سے 11جنوری تک قطر میں تینوں کھلاڑیوں کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کے الزامات کی سماعت مکمل کرنے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان کے تینوں کھلاڑیوں کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کے مقدمے کی سماعت کرنے والا ٹربیونل بھی دوحہ میں ہفتہ کو فیصلہ سنانے والا ہے۔

چند ہفتے قبل دوحہ میں ٹربیونل کے سربراہ مائیکل بیلوف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ فیصلہ پانچ فروری کو دوبارہ سماعت پر سنایا جائے گا اور اس وقت تک تینوں کھلاڑی معطل رہیں گے۔ تاہم ابھی تک تینوں کھلاڑی الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

گزشتہ سال اگست میں ایک برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے دعوٰی کیا تھا کہ مظہر مجید نامی ایک ایجنٹ نے اس کے ایک نمائندے سے ڈیڑھ لاکھ برطانوی پونڈ اس لیے وصول کیے کہ انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں دو پاکستانی فاسٹ بولروں محمد آصف اور محمد عامر طے شدہ وقت پر نو بال کروائیں گے۔ ان خبروں کے شائع ہونے کے بعد مظہر مجید کو اسکاٹ لینڈ یارڈ کی طرف سے حراست میں لے لیا گیا تھا تاہم بعد میں اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM