1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اسپاٹ فکسنگ: پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف سماعت

اسپاٹ فکسنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے تین پاکستانی کھلاڑیوں کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے والے آئی سی سی ٹریبینول کا اجلاس دوحہ کے قطر فنانشل سینٹر میں جاری ہے۔

default

چھ تا گیارہ جنوری جاری رہنے والی اس سماعت میں قصور وار پائے جانے پر پاکستانی ٹیم کے سابق ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بولروں محمد آصف اور محمد عامر کو پانچ برس سے لے کر تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم عدالت میں پیشی سے قبل سلمان بٹ نے کہا کہ وہ پر امید ہیں کہ ان پر پابندی ختم ہو جائے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر اس معاملے کا فیصلہ گیارہ جنوری سے قبل بھی منظر عام پر آ سکتا ہے۔

Pakistan Cricket Muhammad Asif

پاکستانی فاسٹ بولر محمد آصف

آج ٹریبیونل کے سامنے پیشی کے لئے سب سے پہلے محمد عامر عمارت میں داخل ہوئے۔ ان کے چند ہی لمحوں بعد محمد آصف بھی فنانشل سینٹر پہنچ گئے۔ ان دونوں کھلاڑیوں نے گہرے رنگوں کے سوٹ پہن رکھے تھے تاہم ٹائی نہیں باندھی تھی۔ یہ دونوں ہی کھلاڑی اپنی اپنی کاروں سے نکل کر سیدھے عمارت میں داخل ہو گئے اور میڈیا سے کسی بھی طرح کی گفتگو نہیں کی۔ سلمان بٹ ٹریبیونل کی کارروائی کے آغاز سے کچھ لمحے پہلے فنانشل سینٹر پہنچے۔ انہوں نے بھی بغیر ٹائی کے سوٹ پہن رکھا تھا۔

اس سے قبل آئی سی سی کے اس انسداد بدعنوانی ٹریبیونل کے کینیا سے تعلق رکھنے والے جج شرد راؤ نے فنانشل سینٹر پہنچنے پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس مقدمے سے کرکٹ کا وقار وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا: ’’کرکٹ کا کھیل اپنی شفافیت سے پہچانا جاتا ہے، اس لئے ایسے تنازعات کا حل انتہائی ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کرکٹ کا مستقبل روشن ہے اور یہ مقدمہ اسی بات کا اظہار ہے۔

Pakistan Sri Lanka Cricket Salman Butt

سابق ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ

آئی سی سی کی طرف سے سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف پر پاکستانی ٹیم کے دورہء انگلینڈ کے دوران لارڈز کے میدان پر کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں ان کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کے الزامات سامنے آنے کے بعد انہیں عبوری طور پر بین الاقوامی کرکٹ میں شرکت سے روک دیا گیا تھا۔ یہ الزامات ایک برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ میں لگائے گئے تھے۔ اس اخبار کا دعویٰ تھا کہ اس نے اپنی ایک تفتیشی رپورٹ کی غرض سے ایک سٹے باز مظہر مجید کو ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ کی رقم فراہم کی اور اس کے ساتھ میچ میں طے کردہ اوقات پر نوبالز کرانے کی ہدایات کی گئیں۔ اس میچ میں نوبالز ٹھیک اسی وقت کروائی گئیں، جس کے لیے مظہر مجید کو رقم دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اس اخباری رپورٹ کے بعد برطانوی پولیس نے پاکستانی کھلاڑیوں کی قیام گاہوں پر چھاپے مارے تھے اور متعدد کھلاڑیوں سے پوچھ گچھ بھی کی تھی۔ چند روز بعد مظہر مجید نامی اس مبینہ سٹے باز کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا، جسے بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ سلمان بٹ کے کمرے سے ایک بڑی رقم بھی برآمد کی گئی تھی۔ تاہم یہ تینوں کھلاڑی اپنے خلاف تمام تر الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اپنے بے قصور ہونے کے دعوے کرتے ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک