1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اسپاٹ فکسنگ مقدمے کے لیے جیوری کا انتخاب

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے انگلینڈ کے سابقہ دورے کے دوران اسپاٹ فکسنگ کے تحت سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کے خلاف باقاعدہ عدالتی کارروائی کا آغاز منگل کے روز شروع ہوا۔ مقدمے کے پہلے دن جیوری کا انتخاب کیا گیا۔

default

لندن کے سدرک کراؤن کورٹ میں منگل کے روز پاکستانی کرکٹر سلمان بٹ اور محمد آصف ایک شیشے کی دیوار کے عقب میں بیٹھے رہے۔ اس دوران عدالت میں مقدمے کے لیے جیوری کا انتخاب مکمل کیا گیا۔ آج بدھ کے روز عدالت میں ابتدائی جرح شروع ہو گی۔ اس مقدمے کی سماعت چار سے پانچ ہفتوں کے دوران مکمل ہو جائے گی۔ اس دوران شہادتیں اور ان الزامات کی مناسبت سے استغاثہ اور دفاع کے وکیل دلائل پیش کریں گے۔ اس کے بعد ہی عدالت فیصلہ سنانے کی حتمی تاریخ مقرر کرے گی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے گزشتہ سال انگلستان کے دورے کے دوران لارڈز ٹیسٹ میچ میں اسپاٹ فکسنگ کے الزامات سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد برطانوی پولیس نے فوجداری تفتیش مکمل کر کے چالان عدالت میں پیش کر دیا تھا۔ سلمان بٹ اور محمد آصف کے علاوہ فاسٹ باؤلر محمد عامر اور کھلاڑیوں کا ایجنٹ مظہر مجید بھی اس مقدمے میں ملوث ہیں لیکن انہیں عدالت میں حاضری سے استثنا دیا گیا ہے۔

Kombo Pakistan Cricket Korruption Salman Butt Mohammad Asif und Mohammad Amir

محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ

چھبیس سالہ سلمان بٹ اور اٹھائیس سالہ محمد آصف پر الزام ہے کہ انہوں نے سازباز کر کے رشوت کی رقوم قبول کی تھیں۔ اس الزام کی صحت سے دونوں کھلاڑی انکاری ہیں۔ استغاثہ اگر ان الزامات کو عدالت میں ثابت کرنے میں کامیاب ہو گیا تو زیادہ سے زیادہ سات سال کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ الزامات کی بنیاد بند ہو جانے والے اخبار نیوز آف دی ورلڈ کی رپورٹنگ تھی۔ اس دوران کھلاڑیوں کے ٹیلی فون بھی ہیک کیے گئے۔

 ابتدائی پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ محمد آصف کو انگریزی میں ہونے والی عدالتی کارروائی کو سمجھنے کے لیے اردو مترجم کی سہولت بھی فراہم تھی۔ ابتدائی کارروائی کے دوران جیوری کا انتخاب مکمل کیا گیا اور عدالت نے سلمان بٹ اور محمد آصف سے پوچھا کہ انہیں جیوری کے کسی رکن پر کوئی اعتراض تو نہیں ہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے نفی میں جواب دیا۔ اس موقع پر جج جیریمی کُک نے بتایا کہ عدالتی عمل کے مکمل ہونے میں پانچ ہفتے لگ سکتے ہیں۔ عدالت میں الزامات کو پڑھ کر بھی سنایا گیا۔ جج نے جیوری سے کہا کہ وہ اخباری معلومات کو اپنے ذہن سے حذف کرتے ہوئے اس مقدمے میں پیش کی جانے والی شہادتوں پر غور کریں تا کہ درست فیصلے کی جانب رہنمائی ہو سکے۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  حماد کیانی

 

DW.COM