1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اسپاٹ فکسنگ، لندن میں عدالتی کارروائی آج

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے تین سابق کھلاڑی محمد آصف، محمد عامر اور سلمان بٹ کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کے مقدمے کی کارروائی آج لندن کی ایک فوجداری عدالت میں ہو رہی ہے۔ سماعت کے دوران سلمان بٹ موجود نہیں ہوں گے۔

default

سلمان بٹ

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوبی لندن میں واقع ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں ہونے والی عدالتی کارروائی کے دوران مقدمے کی باقاعدہ کارروائی کے لیے تاریخ کا تعین کیا جائے گا۔

سلمان بٹ ، محمد آصف، محمد عامر اور ان کے ایجنٹ مظہر مجید پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ برس لارڈز ٹیسٹ کے دوران اسپاٹ فکسنگ کی تھی۔ ان افراد پراگر اسپاٹ فکسنگ کے الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو انگلش قوانین کے تحت انہیں دو برس سے لے کر سات برس تک کی سزائے قید سنائی جا سکتی ہے۔

Kombo Pakistan Cricket Korruption Salman Butt Mohammad Asif und Mohammad Amir

اسپاٹ فکسنگ میں ملوث محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ

چاروں ملوث افراد 17 مارچ کو لندن کی اسی عدالت میں پیش ہوئے تھے، جہاں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت کے لیے 20 مئی کی تاریخ مقررکی گئی تھی۔

مقدمے کی سماعت میں شریک ہونے کے لیے لندن روانگی سے قبل محمد عامر نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاملہ جلد ہی طے پا جائے گا،’ میں جمعہ کو ہونے والی سماعت میں شرکت کے لیے جا رہا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ یہ معاملہ جلد ہی حل ہو جائے گا‘۔

محمد آصف نے بھی اسی امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ اسپاٹ فکسنگ کے الزامات سے بری ہو جائیں گے،’ میں اس عزم کے ساتھ لندن جا رہا ہوں کہ جب تک میں بے گناہ ثابت نہیں ہوجاتا، میں اس مقدمے کی پیروی کرتا رہوں گا‘۔

دوسری طرف سابق ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ نے کہا ہے کہ اس سماعت میں ان کا جانا ضروری نہیں ہے اور ان کے وکیل ان کی نمائندگی کریں گے۔ سلمان بٹ کے وکیل نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے موکل آج ہونے والی عدالتی کارروائی میں شریک نہیں ہوں گے۔ یاسین پٹیل نے بتایا ہے کہ عدالت نے اجازت دے دی ہے کہ سلمان بٹ عدالتی کارروائی کے دوران غیر حاضر رہ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ان تینوں کھلاڑیوں پر کم ازکم پانچ پانچ سال کی پابندی عائد کی ہے تاہم انہوں نے اس پابندی کے خلاف بھی اپیل کی درخواست جمع کروا رکھی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM