1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اسپاٹ فکسنگ، عدالتی فیصلہ بٹ اور آصف کے خلاف

پاکستانی کرکٹرز سلمان بٹ اور محمد آصف کو منگل کو ایک برطانوی عدالت نے گزشتہ برس انگلینڈ کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ میں اسپاٹ فکسنگ کے الزامات میں قصور وار قرار دے دیا۔

default

خبر ایجنسی اے پی کے مطابق پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور اٹیک بولر محمد آصف کو برطانوی دارالحکومت لندن میں ساؤتھ آرک کراؤن کورٹ کی طرف سے مجرم قرار دیا گیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ان دونوں کھلاڑیوں کے خلاف یہ الزامات ثابت ہو گئے کہ انہوں نے اپنی ٹیم کے دورہء انگلینڈ کے دوران پچھلے سال ایک ٹیسٹ میچ کو جزوی طور پر فکس کرنے کی کوشش کی تھی۔ سلمان بٹ اور محمد آصف پر لگائے گئے الزامات کو ’دھوکہ دہی کے لیے سازش‘ کا نام دیا گیا تھا۔

مقدمے میں جیوری نے اپنا فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ سلمان بٹ اس الزام کے تحت بھی قصور وار ہیں کہ انہوں نے بدعنوانی کرتے ہوئے مالی ادائیگیاں وصول کرنے کی سازش کی۔ تاہم اسی الزام میں جیوری کے ارکان فاسٹ بولر محمد آصف کے بارے میں کسی فیصلے تک نہ پہنچ سکے کہ آیا انہوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔

Flash-Galerie Pakistan Sport Cricket Mohammad Amir

گزشتہ برس اگست میں لارڈز ٹیسٹ کے دوران جان بوجھ کر اور پہلے سے طے کردہ نو بالز کرانے سے متعلق اسپاٹ فکسنگ کے اس مقدمے میں عدالت نے ابھی ان دونوں پاکستانی کھلاڑیوں کو سزا نہیں سنائی۔ سلمان بٹ کو سات سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے یا جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

فیصلے کے مطابق بٹ اور آصف کو سنائی جانے والی سزا کا اعلان آئندہ چند روز میں لیکن اسی ہفتے کر دیا جائے گا۔ دونوں کھلاڑیوں پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل آئی سی سی کی طرف سے پہلے ہی پانچ پانچ سال کے لیے کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔

استغاثہ کے مطابق بٹ اور آصف نے مجید نامی ایک ایجنٹ اور نوجوان پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر کے ساتھ مل کر یہ سازش تیار کی تھی کہ لارڈز ٹیسٹ میں تین دانستہ نو بالز کرائی جانا تھیں، جن کے عرض کھلاڑیوں کو بہت بڑی رقوم کی ادائیگی کے وعدے کیے گئے تھے۔

Kombo Pakistan Cricket Korruption Salman Butt Mohammad Asif und Mohammad Amir

اسی دوران پاکستان کے شہر لاہور سے ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ منگل کے روز سلمان بٹ کے لندن میں اسپاٹ فکسنگ کے الزامات میں مجرم قرار دیے جانے سے قریب آدھ گھنٹہ پہلے سلمان بٹ کی اہلیہ نے ایک بچے کو جنم دیا۔ ستائیس سالہ سلمان بٹ کے والد ذوالفقار بٹ نے خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ نومولود بچہ سلمان بٹ کا پہلا بیٹا ہے، جس سے پہلے ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔

لندن سے ملنے والی تازہ رپورٹوں کے مطابق اس مقدمے میں 19 سالہ محمد عامر نے ستمبر میں یہ اعتراف کر لیا تھا کہ وہ گزشتہ برس اسپاٹ فکسنگ کا مرتکب ہوا تھا۔ عامر کے اس اعترافی بیان سے متعلق میڈیا کو رپورٹنگ کی اجازت قانونی وجوہات کی بنا پر سلمان بٹ اور محمد آصف کو مجرم قرار دیے جانے کے بعد ملی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM