1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

'اسپاٹ فکسنگ سزائیں: 'ذمہ دار پاکستان کرکٹ بورڈ

اسپاٹ فکسنگ کی پاداش میں تین کرکٹرز کے خلاف کارروائی کو پاکستان میں حیران کن طور پر کسی روایتی واویلے کے بغیر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

default

آئی سی سی کی طرف سے تین پاکستانی کرکٹرز پر لگائی گئی پابندیوں کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ اعجاز بٹ نے کہا ہے کہ یہ پابندی قابل افسوس ہے۔ انہوں نے اسے ایک حقیقت قرار دیتے ہوئے اس کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اعجاز بٹ نے یہ عزم بھی ظاہر کیا کہ آئی سی سی کے فیصلے کے مطابق اسپاٹ فکسنگ میں شریک کھلاڑیوں کی تربیت کا بھی خاطر خواہ انتظام کیا جائے گا۔

دوسری طرف سابق کپتان عمران خان سے لے کر پہلی مرتبہ کرکٹ میں میچ فکسنگ کا بھانڈا پھوڑنے والے راشد لطیف تک ہر کوئی اس فیصلے کو تلخ مگر پاکستانی کرکٹ کے مستقبل کے لئے ایک اہم سنگ میل قرادے رہا ہے۔

پی سی بی کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل توقیر ضیاء نے ریڈیو ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ وہ آئی سی سی کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میچ فکسنگ میں دی گئی سزاﺅں کے مقابلے میں یہ سزا سخت ضرور ہے مگر آئی سی سی نے ایک مثال قائم کی ہے اور اب تمام پاکستانی کھلاڑی مستقبل میں محتاط ہوجائیں گے۔ تاہم توقیر ضیاءکا کہنا تھا کہ گناہ گار ثابت ہونے تک پی سی بی کو ان کھلاڑیوں کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔

Kombo Pakistan Cricket Korruption Salman Butt Mohammad Asif und Mohammad Amir

آئی سی سی کی پابندیوں کا نشانہ بننے والے محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ

سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالقادر آئی سی سی کے فیصلے کو غلط نہیں سمجھتے مگر عبدالقادر کے بقول آئی سی سی نے معمولی جرم پر قتل جیسی سزا دی۔ عبدالقادر کا سوال تھا کہ اگر اسپاٹ فکسنگ کی سزا یہ ہے تو پھر میچ فکسنگ کی سزا کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے کھلاڑیوں کو یتیموں کی طرح لاوارث چھوڑ دیا جبکہ بھارت سریش رائنا اور سری لنکا نے دلشان کے معاملے میں ایسا نہیں کیا۔


پاکستان کرکٹرز کے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کی پہلی بازگشت 1979کے دورہ بھارت میں سنائی دی تھی، جبکہ 1990 کے عشرے میں یہ قضیہ اپنی شدت کے ساتھ سامنے آیا مگر پی سی بی کی چشم پوشی کا یہ عالم رہا کہ اس نے 1998میں جسٹس اعجاز یوسف کی سربراہی میں قائم اپنی ہی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو داخل دفتر کرتے ہوئے وسیم اکرم ، سلیم ملک اور اعجاز احمد کو ٹیم میں دوبارہ شامل کر لیا۔ ان کھلاڑیوں کو ٹیم سے دور رکھنے کی سفارش کی گئی تھی۔گز شتہ برس مبینہ طور پر سڈنی ٹیسٹ جان بوجھ کر ہارنے والی پاکستانی ٹیم کے بعض کھلاڑیوں پر بھاری جرمانے اور پابندیاں عائد کرنے کے بعد کرکٹ بورڈ کے چیئر مین اعجاز بٹ نے ایسی قلابازی کھائی کہ وہ کھلاڑیوں کو جرمانوں کے چیک واپس کرنے خود انگلینڈ جا پہنچے۔

Ijaz Butt Pakistan Cricket

پابندی کا فیصلہ افسوسناک ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ اعجاز بٹ

پی سی بی کے سابق چیف عارف علی خان عباسی بورڈ کے موجودہ سیٹ اپ کو اس تاریک صورتحال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ عارف عباسی نے بتایا کہ بورڈ نے بدعنوان کھلاڑیوں کو جان بوجھ کر کپتان بنایا تاکہ وہ ان کے اشاروں پر کام کریں۔ پی سی بی نے آئی سی سی کی وارننگ کے باوجود کرکٹرز کی اصلاح نہیں کی۔ دو کھلاڑ یوں سے نشان زدہ کرنسی بر آمد ہوئی ملک کی بدنامی کرانے والوں میں کوئی بھی رعایت کا مستحق نہیں۔
سزا یافتگان میں جواں سال محمد عامر ہی وہ کھلاڑی ہیں جن کی عالمی کرکٹ میں واپسی اب بھی ناممکن نہیں، کیونکہ ستمبر2015میں جب پابندی کی مدت ختم ہوگی تو عامر کی عمر اس وقت 23برس ہو گی۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لورگاٹ کی جانب سے محمد عامر سمیت تینوں کرکٹرز کو حیران کن طور پر قصہ پارینہ قرار دیے جانے پر جنرل توقیر ضیاءکہتے ہیں، "سلمان بٹ اور آصف پر برطانیہ میں فوجداری مقدمے کے بعد ان دونوں کھلاڑیوں کی واپسی کاکوئی امکان نہیں تاہم عامر اگر خود کو اچھا پرو فیشنل ثابت کرے تو اسکی واپسی ہوسکتی ہے۔"
سابق کپتان عامر سہیل کے مطابق آئی سی سی کو برطانیہ میں ان کھلاڑیوں کے خلاف جاری کریمینل کیس کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے تھا ۔آئی سی سی نے جلد بازی کرتے ہوئے اس سے پہلے ہی اپنی سزا سنا دی اب اگر کھلاڑی فوجداری مقدمے میں بری ہوگئے تو پھر کیا ہو گا؟
کرکٹ کرپشن کا اصل المیہ یہ ہے کہ اس میں آنجہانی ہنسی کرونیے سے محمد عامر تک دہلی پولیس یا نیوز آف دی ورلڈ کے ذریعے کرکٹرز تو پکڑمیں آجاتے ہیں مگر اپنے اینٹی کرپشن یونٹ پر سالانہ ایک ملین پاﺅنڈ خرچ کرنے والی آئی سی سی اس گھناﺅنے دھندے کے محورکسی مافیا یا بڑی مچھلی پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے کسی دور میں پاکستانی پولیس ہیروئن کے اسمگلرکی بجائے صرف نشئی پکڑ کر نہال ہوجایا کرتی تھی۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: افسراعوان

DW.COM

ویب لنکس