1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی انکوائری کا پاکستانی منصوبہ

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے حوالے سے انٹرنل انکوائری کے منصوبے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اس اسکینڈل کے باعث تین سابق پاکستانی کھلاڑیوں کو سزائے قید کا سامنا ہے۔

default

پی سی بی کے چیئرمین ذکا اشرف

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین ذکا اشرف نے ہفتے کو لاہور میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پہلے لندن کراؤن کورٹ کے مقدمے کی تفصیلی رپورٹ کا انتظار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ان لوگوں کی نشاندہی کی جائے گی، جن کی غفلت کے باعث یہ تنازعہ پیدا ہوا۔

ذکا اشرف نے کہا: ’’ہم ان حالات اور غفلت پر مبنی رویے کا پتہ چلانے کی کوشش کریں گے، جو پاکستان کرکٹ کی ساکھ کو بُری طرح متاثر کرنے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی وجہ بنا۔

انہوں نے مزید کہا: ’’جب یہ اسکینڈل سامنے آیا، اس وقت اینٹی کرپشن کے ہمارے اہلکار ٹیم کے ساتھ موجود تھے اور ہم جاننا چاہتے ہیں کہ (ان کی موجودگی میں) یہ کیسے ممکن ہوا۔‘‘

لندن کی ایک عدالت نے اس مقدمے میں سابق کرکٹرز سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کے لیے جمعرات کو چھ ماہ سے ڈھائی سال تک کی سزائے قید کا فیصلہ سنایا۔ ان پر گزشتہ برس انگلینڈ کے خلاف کھیلے جانے والے ایک ٹیسٹ میچ کے دوران دانستہ نو بولز کرانے کا الزام تھا۔ ان تینوں کھلاڑیوں پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پہلے ہی کم از کم پانچ پانچ سال کی پابندی عائد کر چکی ہے۔

Flash-Galerie Pakistan Sport Cricket Mohammad Asif

محمد آصف

گزشتہ ماہ پی سی بی کے چیئرمین کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے ذکا اشرف نے کہا کہ وہ آئی سی سی کے نام خط میں کرپشن کے خلاف مہم میں پاکستان کی معاونت کا اعادہ بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا: ’’پاکستان فکسنگ یا کرپشن میں ملوث پائے جانے والے کھلاڑیوں کی حمایت کبھی نہیں کرے گا۔ ہم آئی سی سی کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ اس کی جانب سے شروع کی گئی کسی بھی تفتیشی کارروائی میں تعاون کیا جائے گا۔‘‘

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن اور سکیورٹی یونٹ اس اسکینڈل کے حوالے سے مزید تفصیلی تفتیش شروع کر سکتا ہے، جس کی بنیاد لندن کی عدالت میں تینوں کھلاڑیوں کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران پیش کیے گئے ثبوت ہوں گے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس