1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسٹراؤس کاہن کامقدمہ، دنیا ابھی بھی تقسیم

نیویارک کے ایک ہوٹل کی ملازمہ نے 14 مئی کو آئی ایم ایف کے سابق سربراہ ڈومینیک اسٹراؤس کاہن پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا اور دنیا اس معاملے پر اب تک تقسیم ہے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون؟

default

ایک امیر اور طاقتور شخص کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی اس لڑکی کوپہلے انتہائی مظلوم اور پاکیزہ طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اب پھر اسی لڑکی کو نیویارک کی انڈر گراؤنڈ مافیا کا حصہ قرار دے دیا گیا۔ جنسی زیادتی کا الزام عائد کرنے والی ’نافی ساتو ڈیالو‘ کی کہانی ابھی تک اس کے وکیل کے ذریعے بیان کی جاتی رہی لیکن گزشتہ ہفتے اس نے بذات خود ABC نیوز کو انٹرویو دیا، جس میں اس کا کہنا تھا کہ اسٹراؤس کاہن کا اس کے ساتھ رویہ ایک ’پاگل انسان‘ جیسا تھا۔

یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ مغربی افریقی ملک گنی سے ہجرت کر کے آنے والے خاندان کی اس لڑکی نے ذرائع ابلاغ کے سامنے بیان دیا ہے۔ اس نے الزام عائد کیا تھا کہ اسٹراؤس کاہن برہنہ حالت میں غسل خانے سے باہر نکلے اور اسے جسمانی تعلق پر مجبور کیا۔ آئی ایم ایف کے سربراہ کے وکیل دفاع کا کہنا تھا کہ ہوٹل ملازمہ کی طرف سے الزامات مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے لگائے گئے ہیں۔

ڈیالو کے وکیل Douglas Wigdor کا کہنا ہے، ’’وہ لوگوں کی صرف یہ بتانا چاہتی ہے کہ وہ کوئی جسم فروش نہیں ہے۔ ایک مسلمان امام کی ناخواندہ بیٹی ہے اور صرف ایک لگژری ہوٹل میں صفائی ستھرائی کا کام کرتی ہے‘‘۔

NO FLASH Freilassung von Dominique Strauss-Kahn in New York

اسٹراؤس کاہن رہائی کے بعد

اب اسٹراؤس کاہن کے حامیوں کے ہاتھ بھی ایسا مواد لگا ہے ، جس سے وہ جوابی کارروائی کر سکتے ہیں۔ وکیل استغاثہ کا کہنا ہے کہ اسٹراؤس کاہن کو کم از کم 25 سال قید کی سزا سنائی جائے لیکن ڈیالو کے ماضی کے واقعات اس راہ میں رکاوٹ ہیں۔ امریکہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے ڈیالو نے کہا تھا کہ اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی ہے، حالانکہ ایسا نہیں تھا، اسی طرح اسٹراؤس کاہن کے بارے میں بھی اس نے اپنا بیان منٹوں میں تبدیل کر لیا تھا۔

اب اسٹراؤس کاہن کے دفاعی وکلاء کا کہنا ہے کہ لڑکی کے بیانات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ کاہن کے وکیل دفاع کا عدالت میں کہنا تھا کہ انہیں ایک ریکارڈ شدہ فون کال ملی ہے، جس میں ڈیالو ایریزونا جیل میں قید کسی آدمی سے بات کرتے ہوئے کہتی ہیں ’’words to the effect ‘‘ جس کا مطلب ہے ’’اس آدمی کے پاس بہت مال ہے۔‘‘ وکیل دفاع کے مطابق اس فون کال میں یہ بھی کہا گیا ہے، ’’میں جانتی ہوں کہ میں کیا کر رہی ہوں۔‘‘

نیو یارک ٹائمز کے مطابق جیل میں، جس شخص سے بات کی گئی تھی، وہ منشیات کا کاروبار کرنے کی وجہ سے قید ہے جبکہ اس کی طرف سے کئی مرتبہ ڈیالو کے بینک اکاؤنٹ میں ہزاروں ڈالر ٹرانسفر کیے گئے تھے۔ ڈیالو کا نیوز ویک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اس کے اکاؤنٹ میں پیسے منتقل کیے گئے تھے لیکن اس نے کبھی بھی یہ رقم استعمال نہیں کیے۔ تاہم ابھی تک یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کس کی بات میں سچائی ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM