1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسٹاک ہولم حملے کے مبینہ حملہ آور کا اعترافِ جرم

سویڈن کی ایک مصروف شاہراہ پر عام لوگوں پر ٹرک چڑھانے والے مشتبہ ملزم نے اعترافِ جرم کر لیا ہے۔ ملزم کا تعلق وسطی ایشیائی ریاست ازبکستان سے بتایا گیا ہے۔ اس نے اعترافی بیان عدالت میں دیا۔

ٹرک سے عام شہریوں کو روندنے والے رحمت عاقلوف کی عمر انتالیس برس ہے۔ انتہائی سکیورٹی میں آج منگل گیارہ اپریل کی صبح میں اُسے سویڈش دار الحکومت اسٹاک ہولم کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔  عدالتی کارروائی کے بعد ملزم کے وکیل ژوہان ایرکسن نے رپورٹرز کو بتایا کہ اُن کے موکل نے عدالت میں عام شہریوں پر ٹرک چڑھانے کا اعتراف کر لیا ہے۔

ایرکسن نے بتایا کہ عاقلوف نے عدالت میں اپنی دہشت گردانہ کارروائی کو تسلیم کیا ہے۔ آج کی کارروائی کے بعد عدالت نے ملزم کو پولیس کی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا۔ وکیل کے مطابق اگلی پیشی پر اس کی ضمانت کے حوالے سے ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج کے سامنے درخواست پیش کی جا سکتی ہے۔

ڈسٹرکٹ کورٹ میں ازبک شہری سبز رنگت والی ایک سویٹر میں ملبوس تھا۔ عدالت نے اُسے مترجم کی سہولت بھی فراہم کر رکھی تھی۔ عاقلوف کے حملے میں چار ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے تھے۔ استغاثہ کے مطابق رحمت عاقلوف نے یہ حملہ چوری کیے گئے ایک ٹرک کے ذریعے کیا تھا۔

Schweden Usbeke gesteht Anschlag vor Haftrichter in Stockholm (Reuters/A. Ringstrom)

سویڈش دارالحکومت کی عدالت کے اندر ٹرک سے حملہ کزنے والے کی سماعت کے دوران باہر پولیس کھڑی ہے

رپورٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ملزم کے وکیل ایرکسن نے کہا کہ آج کے بعد اس مقدمے کی بقیہ کارروائی کو عام لوگوں اور صحافیوں کے لیے عام نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عدالت نے حکومتی وکیل استغاثہ کی وہ درخواست منظور کر لی جس میں اِس مقدمے کی کارروائی بند دروازے کے پیچھے مکمل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

 سویڈش پولیس کو یہ معلومات دستیاب تھیں کہ مبینہ ملزم رحمت عاقلوف جہادی نظریات کی طرف مائل تھا اور ایسی تنظیموں کو پسند کرتا ہے جو جہادی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ازبک شہری کی مستقل رہائش حاصل کرنے کی درخواست سویڈش حکام نے گزشتہ برس مسترد کر دی تھی اور اس کے بعد وہ روپوش ہو گیا تھا۔ اس دہشت گردانہ کارروائی سے قبل عاقلوف پولیس کو اس لیے بھی مطلوب تھا کہ اُسے مستقل رہائش کی درخواست مسترد ہو جانے کے بعد ہر قیمت پر سویڈن چھوڑنا تھا لیکن وہ ایسا نہیں کر سکا تھا۔