1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسٹاک مارکیٹ میں افراتفری برقرار، 200 ارب کا نقصان ہو چکا

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کی وجہ سے ملکی بازار حصص ایک بار پھر شدید مندی کا شکار ہے۔ مالیاتی امور کے ماہرین کے خیال میں اگر صورتِ حال بہتر نہ ہوئی تو اسٹاک مارکیٹ کو مزید نقصان اٹھانا پڑے گا۔

پاکستان میں ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے مارکیٹ افراتفری کا شکار ہے اور ملک اربوں روپے کے نقصان کی زد میں ہے۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج سے وابستہ ٹریڈر محمد عرفان کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں سیاسی بے یقینی کی یہ ہی کیفیت رہی، توصورتِ حال دوہزار تین والے بحران کی طرف جا سکتی ہے۔

 ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’بروکرز کی ایک بڑی تعداد بینک سے سود پر قرضہ لے کر کاروبار کرتی ہے۔ اگر یہ ہی صورتِ حال رہی تو یہ بروکرز مالی طور پر بالکل تباہ ہو جائیں گے۔ میں نے خود پاکستان اسٹیٹ آئل کے شیئرز تین سو نوے روپے میں خریدے تھے لیکن اب ان کی قیمت کم ہو کر تقریباﹰ  375 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح دوسری کمپنیوں کے شیئرزکی قدر میں بھی کمی ہو رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کاروبار نہیں ہو رہا اور سرمایہ کاری بھی رکی ہوئی ہے۔‘‘

Pakistan Wirtschaft Zwiebeln (Getty Images/AFP/R. Tabassum)

ایسے موقع پر سب سے زیادہ چھوٹے ٹریڈرز اور سرمایہ کار متاثر ہوتے ہیں


ان کا کہنا تھا کہ ایسے موقع پر سب سے زیادہ چھوٹے ٹریڈرز اور سرمایہ کار متاثر ہوتے ہیں،’’بڑے سرمایہ کار اپنے شیئرز روک سکتے ہیں لیکن چھوٹے سرمایہ کار ایسا نہیں کر سکتے، جس سے ان کو بہت بڑا مالی نقصان ہوتا ہے۔ کئی مالی طور پر بالکل تباہ ہو جاتے ہیں اور شدید قرضوں کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ مشرف کے دور میں اسٹاک مارکیٹ میں شدید بحران آیا تھا جس کی وجہ سے لوگوں نے خودکُشیاں بھی کیں تھیں اور اسٹاک مارکیٹ پر حملے بھی ہوئے تھے۔ حکومت کو فوری طور پر اس صورتِ حال کا نوٹس لینا چاہیے ورنہ ملک میں بہت بڑی معاشی تباہی آسکتی ہے۔‘‘

جے آئی ٹی، پاکستان کے مسائل اور جمہوری بادشاہتوں کی روایت
معروف معیشت دان اور سابق وفاقی وزیرِ برائے خزانہ ڈاکڑ مبشر حسن نے اس مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’حکومت کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے چاہیں، جن کی بدولت لوگ ملک سے ڈالرز باہر نہ بھیج سکیں کیونکہ ایسی صورتِ حال میں لوگ خوفزدہ ہوکر ڈالرز باہر بھیجنا شروع کر دیتے ہیں، جس سے ملکی معیشت کو شدید نقصان ہوتا ہے۔‘‘
ان کے مطابق اگر بحران کو روکنے کی کوشش نہیں کی گئی تو اس کے اثرات بینکوں پر بھی پڑیں گے، جس سے ملک کی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، ’’اگر لوگوں نے بڑی تعداد میں شیئرز بیچنے شروع کر دیے تو اس سے بینکوں پر بھی بہت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بینک لوگوں سے پیسہ لے کر کمپنیوں میں لگاتے ہیں۔ اگر ان کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت گرے گی تو بینکوں پر بھی مالی بوجھ بڑھے گا۔ حکومت ایک حد تک بینکوں کو گارنٹی دیتی ہے لیکن اگر بینک اس گارنٹی سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں تو صورتِ حال بہت گھمبیر ہوجاتی ہے۔‘‘

جے آئی ٹی نے رپورٹ پیش کر دی، کیس کی سماعت پیر تک ملتوی
مالیاتی امور کے ماہر فیصل فتح ملک کے خیال میں کسی بھی طرح کی بے یقینی اسٹاک مارکیٹ اور معیشت کے لئے تباہ کن ہوتی ہے۔ اس مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’کچھ عرصے پہلے چین کی اسٹاک مارکیٹ میں بھی بحران آیا تھا لیکن اس کے اسباب خارجی تھے۔ پاکستان میں جو بحران آیا ہے، اس کے اسباب خالصتاﹰ داخلی ہیں۔ سیاسی بے یقینی نے ملک میں ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے، جس کی وجہ سے معیشت کو شدید نقصان ہو رہا ہے۔ دو سو ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے اور مزید ہونے کا امکان ہے اگر صورتِ حال تبدیل نہیں ہوتی تو۔‘‘
لیکن کچھ کاروباری حضرات کے خیال میں صورتِ حال اتنی گھمبیر نہیں جتنی کہ میڈیا پر دکھائی جارہی ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سینئیر نائب صدر الماس حیدر کے مطابق صرف اسٹاک ایکسچینج میں مندی ہے بقیہ کاروبار اتنا برا نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’کرنسی مارکیٹ میں مستحکم ہے، روپے کی قدر بھی برقرار ہے۔ میرے خیال میں مارکیٹ مجموعی طور پر مستحکم ہے۔ صرف اسٹاک مارکیٹ کو دھچکا لگا ہے۔‘‘

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات