1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسٹاک مارکیٹوں میں مندی سے عالمی معیشت کو خطرہ

ایشیا میں اسٹاک مارکیٹیں منگل کو پھر مندی کا شکار رہی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی معیشت ایک بڑے بحران کے اور بھی نزدیک چلی گئی ہے۔

default

منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں شیئرز کی قیمیتں دو سے سات فیصد تک گری ہیں۔ اس صورت حال میں سرمایہ کار یہ اعتماد کھوتے جا رہے ہیں کہ امریکہ اور یورپ قرضوں کے بوجھ سے جلد نکلتے ہوئے عالمی مالیاتی بحران کے ایک اور دَور سے بچ سکتے ہیں۔

مالی منڈیوں کو لگنے والے پے درپے دھچکوں نے امریکی فیڈرل ریزرو پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس تناظر میں منگل کو ہونے والے ایک پالیسی اجلاس میں امریکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز نے تجزیہ کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس حوالے سے زیادہ آپشنز دکھائی نہیں دیتے۔

بی این پی پیریبس کے مطابق: ’’موجودہ حالات کو اعتماد کھونے کے تیز تر، مکمل اور غیرمتوقع مرحلے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ معاملہ گزشتہ چند ہفتوں سے سر اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔‘‘

اس ادارے کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی بحالی کا امکان کچھ خاص روشن نہیں اور اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے سرمایہ کاروں کا اعتماد کھو جانا بہت پریشان کن ہے۔

پیر کو، آٹھ روز کے دوران دنیا بھر میں سرمایہ کاروں کو پہنچنے والے نقصان کا حجم تین اعشاریہ آٹھ ٹریلین ڈالر ہو چکا تھا، جس کے بعد وہ سوئس فرانک، جاپانی ین اور گولڈ میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں۔

Barack Obama

امریکی صدر باراک اوباما

دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما نے اُمید ظاہر کی ہے کہ کریڈیٹ ریٹنگ میں کمی کے نتیجے میں ملکی بجٹ میں کٹوتیوں کے منصوبے متحرک ہوں گے۔

قبل ازیں امریکی حکام نے ملکی قرضوں کے تناظر میں پائے جانے والے گرِڈ لاک کے خاتمے پر زور بھی دیا۔ اس معاملے پر ڈیمو کریٹس اور ریپبلیکنز کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو امریکی کریڈیٹ رینٹنگ میں کمی کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ مالیاتی اور اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہر کسی کو کوشش کرنی ہو گی۔

خیال رہے کہ کریڈیٹ ریٹنگ ایجنسی اسٹیڈرڈ اینڈ پورز نے امریکہ کی ریٹنگ ٹرپل اے سے کم کر کے ڈبل اے پلس کر دی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس