1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسٹائل اسلام

مسلم نوجوانوں کو اسٹائلش بنانے اور ان میں مذہبی شعو بیدار کرنے کی ایک انوکھی پیش رفت اسٹائل اسلام۔

default

اسٹائل اسلام کے خلق میلحہ کسمان

پرہیزگارمسلمان اورماڈرن طرز زندگی، پہلی مرتبہ سننے میں ان دونوں کا ملاپ مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ایک جانب قرآن کے احکامات اورمسلمانوں کی روایات تو دوسری طرف مغربی دنیا کا زندگی گزارنے کا طریقہ۔ اس صورتحال میں نوجوان مسلمانوں کے لئے دونوں حوالوں سے اپنی شناخت کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے یہ بتایا ہے جرمن شہر وٹن سے تعلق رکھنے والے ایک فیشن ڈیزائنرنے۔ ان کی ڈیزائن کی ہوئے کپڑے، مسلم نوجوانوں کونہ اسٹائلش بناتے ہے بلکہ مذہب کے بارے شعور دینے کے ساتھ ساتھ انہیں مذہب کی طرف راغب کرتے ہیں۔ اس لیبل کا نام ہے اسٹائل اسلام۔

مےلح کیسمان اسٹائل اسلام کے خالق ہیں۔ ترک نژاد جرمن نوجوان اپنی ڈیزائن کی ہوئی ایک ٹی شرٹ بہت پسند ہے جس پر لکھا ہوا ہے GO Helal یعنی حلال چیزوں کا استعمال کرو۔ تاہم اس ٹی شرٹ کا رنگ اور ڈیزائن میلحہ کوبہت ہے۔ ماڈرن اسٹائل اورمذہبی پیغام بڑا انوکھا امتزاج ہے۔ بتیس سالہ مےلح اس بارے میں کہتے ہیں کہ اسٹائل اسلام کا مقصد بہت سادا سا ہے۔ ہم اس مغربی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ہم بالکل ویسے ہی شہری ہیں جیسے کہ جرمن ہوتے ہیں۔ ہم ٹیکس ادا کرتے ہیں، یہاں کام کرتے ہیں، خوشی اورغم سب کچھ ہمارے لئے بھی ویسا ہی ہے جیسے دوسرے شہریوں کے لئے۔ ہم بس اس معاشرے میں جرمن مسلمانوں کی حیثیت سے رہتے ہیں۔

Melih Kesmen Firmeninhaber Styleislam

گو حلال کی ٹی شرٹ کے ساتھ .


مےلح کا یہ پروجیکٹ تین سال پہلے شروع ہوا تھا۔ اس وقت جب ڈنمارک میں پیغمبراسلام کے متنازعہ خاکوں کی اشاعت نے یورپ میں ایک نا خوشگوارماحول پیدا ہو گیا تھا۔ مےلح کے خیال میں اس وقت مسلم دنیا کی طرف سے جس شدت کا رد عمل دیکھنے میں آیا وہ مناسب نہیں تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت انہوں نے سوچا کہ انہیں کوئی ایسا پروجیکٹ شروع کرنا چاہئے جو امن، مفاہمت اور تعمیری پیغام کا حامل ہو۔ اس وقت انہوں نے ایک ایسی ٹی شرٹ ڈیزائن کی جس پر لکھا تھا کہ میں اپنے پیغمبر سے پیار کرتا ہوں اور میلحہ کا موقف بھی یہی ہے۔

Melih Kesmen Firmeninhaber Styleislam

میلحہ کسمان اسٹائل اسلام کے دفتر میں


مےلح کی ڈیزائنگ والی ٹی شرٹ کو بہت پسند کیا گیا۔ جس کے بعد اس گرافک ڈیزائنرنے اپنے آبائی شہر وٹن میں اس قسم کے ڈیزائن والے لباسوں کی تیاری میں مزید تیزکر دی اوراس وقت 30 مختلف نعروں اورپیغامات کے ساتھ مے لح کی ڈیزائن کی ہوئی اشیاء مقبول ہو چکی ہیں۔ ان میں بچوں کے جوتے اور رومپرز وغیرہ بھی شامل ہیں۔ وہ اپنی ڈیزائنرز شاپ میں کام کرنے والی زیادہ ترایسی خواتین کا انتخاب کرتے ہیں جو ہیڈ اسکارفس پہنتی ہوں۔ ان کے دفتر کا ماحول اسلامی ہے جہاں باقائدہ نمازکا وقفہ بھی ہوتا ہے۔ مے لح کی ڈیزائن کی ہوئی قمیضیں اورٹی شرٹس مسلم جرمن اورغیرملکی نوجوانوں میں بہت زیادہ مقبول ہو ئی ہیں۔