1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اسمگلروں نے یورپ کے لیے نیا راستہ ڈھونڈ لیا

لیبیا میں کریک ڈاؤن کے آغاز کے بعد انسانوں کے اسمگلروں نے تارکین وطن کو غیرقانونی طریقے سے یورپ پہنچانے کے لیے ایک نیا راستہ تلاش کر لیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لیبیا میں انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے تناظر میں تیونس میں متحرک اسمگلروں نے تارکین وطن کو غیرقانونی طور پر یورپ پہنچانے کا کام شروع کر دیا ہے۔

لیبیا سے انسانوں کے اسمگلر اطالوی جزیرے لامپے ڈوسا کا رخ کیا کرتے تھے، تاہم یہ تین سو کلومیٹر طویل سمندری راستہ انتہائی خطرناک ہے اور رواں برس سینکڑوں افراد اسی راستے میں بحیرہ روم کی موجوں کی نذر ہوئے ہیں۔

بنگلہ دیش سے لیبیا اور پھر یورپ، مہاجرین کا نیا راستہ

مہاجرین کا راستہ کیسے روکا جائے؟ اٹلی کا نیا منصوبہ

’یورپ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے نہیں دیے جائیں گے‘

لییبا میں اگست سے کوسٹ گارڈز نے کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے تارکین وطن اور اسمگلر دونوں متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں خلیج تیونس کے قریب بسنے والوں کو رقوم دے کر یہ اسمگلر جگہیں حاصل کر رہے ہیں اور یہاں سے تارکین وطن کو غیرقانونی طور پر اطالوی علاقے سسلی لے جایا جاتا ہے۔ روئٹرز کے مطابق تیونس سے سسلی کا یہ راستہ فقط ایک سو پچاس کلومیٹر طویل ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ ماہ ایک جانب تو لیبیا سے بحیرہء روم کے راستے اٹلی کا رخ کرنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی جب کہ دوسری جانب تیونس سے اٹلی جانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

روئٹرز کے مطابق تیونس سے بھی نوجوان تارکین وطن مالی مجبوریوں کی بنا پر ان اسمگلروں کے ذریعے اٹلی کا رخ کرتے نظر آتے ہیں، جب کہ افریقی تارکین وطن بھی اب لامپے ڈوسا کے سمندری راستے پر بحری گشت کے تناظر میں سسلی کا رخ کرنے میں زیادہ دلچیسپی لے رہے ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ تیونس میں غیرقانونی طور پر ملک چھوڑنے والے تارکین وطن اور اسمگلر پکڑے بھی جائیں، تو ان کے لیے سزائیں خاصی نرم ہیں۔

تیونس کے کوسٹ گارڈز سے تعلق رکھنے والے ایک کپتان حسین ربہی کے مطابق، ’’سسلی جانے والے راستے کی لامپے ڈوسا جانے والے راستے کے مقابلے میں بہت کم نگرانی کی جاتی ہے۔‘‘

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق لیبیا اب بھی یورپ جانے کے خواہش مند تارکین وطن کے لیے ایک اہم مقام ہے، جہاں سے رواں برس اٹلی پہنچنے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ تاہم تیونس سے اٹلی کا رخ کرنے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رواں برس کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران اس راستے سے فقط ساڑھے تیرہ سو افراد نے سسلی کا رخ کیا تھا، تاہم ستمبر کے مہینے میں یہ تعداد 14 سو ہو گئی تھی۔

DW.COM