1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اسمگلروں نے پچاس مہاجرین کو دانستاﹰ ڈبو دیا، آئی او ایم

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق یمن کے ساحلوں کے قریب انسانوں کے اسمگلروں نے دانستاﹰ قریب پچاس تارکین وطن کو سمندر میں ڈبو دیا۔ ادارے نے یمنی ساحلوں کے قریب پیش آنے والے اس واقعے کو ’غیر انسانی عمل‘ قرار دیا۔

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ پریس نے بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے حوالے سے لکھا ہے کہ صومالیہ اور ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے پچاس سے زائد تارکین وطن کی ہلاکت کا یہ واقعہ یمنی ساحلوں کے قریب پیش آیا۔ آئی او ایم کے مطابق انسانوں کے ایک اسمگلر نے تارکین وطن سے بھری ہوئی کشتی کو کھلے سمندر کی جانب جانے پر مجبور کیا۔

بحیرہ روم کے ذریعے اسپین پہنچنے کا انتہائی خطرناک راستہ

بحیرہ روم میں حادثہ: گیارہ مہاجرین ہلاک دو سو لا پتہ

آئی او ایم نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس کشتی میں مجموعی طور پر 180 سے زائد تارکین وطن سوار تھے جن کی اوسط عمر محض سولہ برس تھی۔ سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے کئی تارکین وطن کی لاشیں نکال لی گئی ہیں تاہم ابھی تک بائیس تارکین وطن گمشدہ ہیں۔

یمن میں جاری جنگ کے باوجود افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے کئی تارکین وطن خلیجی ممالک تک پہنچنے کے لیے اسی روٹ کا انتخاب کرتے ہیں۔

آئی او ایم کی یمنی شاخ کے سربراہ لاؤرینٹ ڈی بؤک نے اے پی سے کی گئی اپنی ایک گفتگو میں کہا، ’’اس واقعے میں بچ جانے والے تارکین وطن نے آئی او ایم کو بتایا ہے کہ یمنی ساحلوں کے قریب مبینہ طور پر سکیورٹی حکام کی موجودگی کے باعث اسمگلر نے زبردستی کشتی کو کھلے پانیوں کی جانب موڑ دیا۔‘‘

ڈی بؤک نے تارکین وطن کے حوالے سے مزید بتایا کہ انسانوں کا یہ اسمگلر ’انہی راستوں سے مزید تارکین وطن کو لانے کے لیے خود واپس صومالیہ روانہ ہو گیا‘ تھا۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق حالیہ دنوں میں بحر ہند میں چلنے والی تیز ہواؤں اور طغیانی کے سبب ان سمندری راستوں کے ذریعے گلف ممالک کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی مشکلات میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ ڈی بؤک کے مطابق، ’’بے تحاشا نوجوان بہتر مستقبل کی غلط امیدوں میں انسانوں کے اسمگلروں کو بھاری رقوم ادا کر کے یہ راستے اختیار کر رہے ہیں۔‘‘

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کے آغاز سے لے کر اب تک مختلف افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے پچپن ہزار سے زائد تارکین وطن ان سمندری راستوں کے ذریعے یمن پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ برس مجموعی طور پر ایک لاکھ دس ہزار سے زائد تارکین وطن بحر ہند کے راستوں کے ذریعے یمن پہنچے تھے۔

امدادی ادارے یا مہاجرین کو یورپ لانے کی ’ٹیکسی سروس‘؟

ترکی سے اٹلی: انسانوں کے اسمگلروں کا نیا اور خطرناک راستہ

ویڈیو دیکھیے 03:00

امیدوں کے سفر کی منزل، عمر بھر کے پچھتاوے

DW.COM

Audios and videos on the topic