1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹ کمپیوٹرز سے جسمانی تکالیف

صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جسم کو آگے کی جانب جھکا کر اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹ کمپیوٹرز کو کافی دیر استعمال کرنے سے جسم کے مختلف حصوں میں کھچاؤ اور تکلیف شروع ہو جاتی ہے۔

default

برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ کافی دیر تک چھوٹی چھوٹی اسکرینوں پر نظر جما کر بیٹھنے، گیمز کھیلنے اور پیغامات ٹائپ کرنے کے باعث دور جدید کی ان سہولیات سے مستفید ہونے والے افراد میں مختلف جسمانی مسائل بڑھ رہے ہیں۔

برطانیہ میں ہونے والے رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے سے پتا چلا ہے کہ 44 فیصد برطانوی باشندے یومیہ نصف گھنٹے سے دو گھنٹوں تک اپنے موبائل فون کو فون کالوں سے ہٹ کر دیگر سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ستمبر میں ہونے والے اس سروے کے دوران دو ہزار کے لگ بھگ بالغوں سے سوالات کیے گئے۔

چارٹرڈ سوسائٹی آف فزیو تھراپی کی سَیمی مارگو کا کہنا ہے کہ انسانی جسم اس طرح کی سرگرمیوں کے لیے موزوں نہیں ہیں۔

Frauen mit Handys Flash-Galerie

ماہرین صحت کے مطابق چھوٹی اسکرینوں پر نظر جما کر بیٹھنے اور ٹیکسٹ پیغامات ٹائپ کرنے کے باعث افراد میں جسمانی مسائل بڑھ رہے ہیں

انہوں نے کہا، ’’فون انتہائی چھوٹے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ ان کی اسکرین بھی بہت چھوٹی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ایک مریضہ کے بالائی جسمانی اعضاء میں شدید درد رہنے لگا جس کے بعد اس نے ٹیکسٹ پیغامات بھیجنا چھوڑ کر آواز کو پہچاننے والے سافٹ ویئر کا استعمال شروع کر دیا۔‘‘

برٹش چیرو پریکٹک ایسوسی ایشن کے ٹم ہچفُل نے بتایا کہ ان کے پاس علاج کی غرض سے آنے والی ایک خاتون کے انگوٹھے اسمارٹ فون کا استعمال کرنے کے باعث سوج گئے اور وہ درد کی شدت کے باعث کئی ہفتوں تک اپنے ہاتھوں کو استعمال کرنے سے قاصر رہی۔

ہاتھوں میں ہونے والی تکلیف کے علاوہ ماہرین نے ان مسائل کی بھی نشاندہی کی ہے جو گھنٹوں تک اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کمپیوٹر کی چھوٹی چھوٹی اسکرینوں پر نظریں جمائے رکھنے سے پیدا ہوتے ہیں۔

BlackBerry Flash-Galerie

موبائل پر بہت زیادہ ٹیکسٹ پیغامات ٹائپ کرنے والے اکثر افراد کے انگوٹھوں میں درد شروع ہو جاتا ہے

ہچفل نے کہا، ’’ایک اوسَط انسانی سر کا وزن 10 سے 12 پاؤنڈ کے برابر ہوتا ہے۔ جسم کے مثالی انداز میں آپ کے کان سے کندھے، کولہے، گھٹنے اور ٹخنے سے عمودی لکیر کھنچنی چاہیے اور اس صورت میں سر کا وزن متناسب ہوتا ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر تمام وقت سر جھکا کر ان اسکرینوں پر نظریں جمائی جائیں تو سر کا وزن چار گنا زیادہ ہو جاتا ہے جس سے پورے جسم میں کھچاؤ بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹروں نے اس کیفیت کو ’ٹیکسٹ نیک‘ کا نام دیا ہے اور یہ برطانیہ میں ہر پچاس میں سے ایک کارکن کو لاحق ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی تکالیف کے ایک مجموعے کو repetitive strain injury کہا جاتا ہے جس کی علامات میں خاص طور پر گردن اور بالائی اعضاء کے عضلات، ریشوں اور اعصاب میں ہونے والی تکلیفیں ہیں۔ یہ عام طور پر ان کارکنوں میں عام ہیں جو کئی گھنٹے تک کمپیوٹر اور ان کے ماؤس استعمال کرتے ہیں۔

فرانس میں بیماری کے باعث چھٹی کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ تکالیف ہیں۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM