1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلحے کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے، روسی صدر

روسی صدر دیمیتری میدویدیف نے خبردار کیا ہے کہ ماسکو حکومت اور نیٹو مشترکہ میزائل شیلڈ پر متفق نہ ہو سکے تو آئندہ دہائی میں اسلحے کی نئی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ بات اپنی قوم سے سالانہ خطاب میں کہی۔

default

روسی صدر دیمیتری میدویدیف

دیمتیری میدویدیف نے کہا ہے کہ نیٹو اور روس کے حالیہ اجلاس میں انہوں نے باہمی تعاون کے بھرپور طریقہ کار کی وکالت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ میزائل شکن منصوبے میں روس اور نیٹوکی استعداد کو یکجا کیا جانا چاہئے، ساتھ ہی کسی بھی میزائل حملے کے خطرے سے یورپی ممالک کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہئے۔

روسی صدر نے کہا، ’میں یہاں یہ بات کھل کر کہنا چاہوں گا، آئندہ دہائی میں ہمارے پاس زیادہ آپشنز نہیں۔ ہم مشترکہ دفاعی منصوبے پر متفق ہوتے ہوئے باہمی تعاون کا بھرپور طریقہ کار طے کر سکتے ہیں، جس میں ناکامی کی صورت میں ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہوجائے گی۔‘ انہوں نے کہا، ’ظاہر ہے، ایسے حالات بہت مشکل ہوں گے۔‘

میدویدیف کا یہ خطاب ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا، تاہم حاضرین میں روس کے وزیر اعظم ولادیمیر پوٹین بھی شامل تھے، جوسابق صدر بھی ہیں اور انہیں میدویدیف کا طاقتور پیشرو خیال کیا جاتا ہے۔ متعدد حلقوں کا ماننا ہے کہ آئندہ صدارتی انتخابات کے نتیجے میں پوٹین پھر سے عہدہ صدارت سنبھال لیں گے۔ انہوں نے 2008ء میں صدرکا منصب چھوڑا تھا اور تب سے ہی وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں۔

Ausschnitt Der russische Präsident Wladimir Putin

روس کے وزیر اعظم ولادیمیر پوٹین

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق تجزیہ کاروں نے روسی صدر کے اس خطاب کو جوش و جذبے سے خالی قرار دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دیمیتری میدویدیف میں دوبارہ صدارتی منصب سنبھالنے کا جذبہ واضح طور پر دکھائی نہیں دیا۔

اندرون ملک مسائل کے حوالے سے روسی صدر نے قوم سے خطاب میں کہا کہ آبادی میں کمی پر قابو پانے کے لئے ہر گھرانے میں کم ازکم تین بچے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ آبادی کے حوالے سے 1990ء کی دہائی کے مسائل قوم کے لئے ایک چیلنج تھے اور بڑے گھرانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے اقدامات کئے جان چاہیئں۔ میدویدیف نے کہا، ’آئندہ 15برس میں ہم گزشتہ دہائی میں ہونے والے نقصانات کے اثرات محسوس کریں گے، جو شرح پیدائش میں کمی کے باعث پہنچے۔‘

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM