1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’اسلحے سے لدے جہاز پر امن مشن کے ہتھیار تھے‘

بھارتی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ پاکستان کے لئے جانے والے بحری جہاز میں پکڑا گیا اسلحہ و گولہ بارود لائیبیریا میں اقوام متحدہ کے امن مشن سے متعلق ہوسکتا ہے جبکہ پاکستان نے اس جہاز کو روکے جانے کی مذمت کی ہے۔

default

فائل فوٹو

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی پولیس انتظامیہ نے جمعہ کو پکڑے گئے اس بحری جہاز سے متعلق اتوار کو بیان جاری کیا ہے۔ اس سے قبل MV Aegean Glory نامی اس بحری جہاز میں بڑی مقدار میں راکٹ لانچرز، اینٹی ایئرکرافٹ گنز اور مختلف بموں کی موجودگی پر بھارتی حکام نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جہاز کے 20 رکنی عملے اور یونانی کپتان کو حراست مں لے لیا تھا۔ بیان کے مطابق جہاز میں پایا جانے والا اسلحہ نیپال، بنگلہ دیش اور پاکستان کے لئے روانہ کیا گیا تھا۔

ادھر اسلام آباد میں پاکستانی دفتر خارجہ نے اس بھارتی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاز کو قبضے میں لئے جانے سے انہیں لاعلم رکھا گیا تھا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط کے بقول جہاز نے پہلے بنگہ دیش کا اسلحہ چٹاگانگ پر اتارا اور پھر پاکستان کا اسلحہ لے کر کراچی آرہا تھا۔

Flash-Galerie Friedensmacher

لائیبیریا میں خانہ جنگی میں کم عمر جنگجگو بھی موت کے کھیل میں ملوث کردئے گئے ہیں

بھارتی حکومتی ذرائع کے مطابق جہاز کے کلیئرنگ ایجنٹ نے ابتدائی طور پر یہ نہیں بتایا تھا کہ جہاز میں اسلحہ موجود ہے، اسی لئے جہاز روکا گیا۔ بتایا جارہا ہے کہ 153 میٹر طویل یہ بحری جہازپاناما میں رجسٹرڈ ہے اور مونورویا، لائیبیریا، ماریشس اور چٹاگانگ سے ہوتا ہوا کولکتہ پہنچا تھا۔

یاد رہے کہ مغربی افریقہ کے ملک لائیبیریا میں چودہ سال کی خانہ جنگی کے بعد اقوام متحدہ نے امن مشن کے پندرہ ہزار اہلکار وہاں سلامتی کو ممکن بنانے کے لئے روانہ کئے تھے۔ بدامنی کے باعث لائیبیریا میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔ حالات میں قدرے بہتری کے بعد2007ء سے لائیبیریا سے امن مشن کے دستوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM