1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلام کو دہشت گردی سے نہ جوڑا جائے، سربراہ جامعہ الازہر

مصر کے اعلیٰ ترین مذہبی رہنما نے اپنے ایک جذباتی خطاب میں زور دیا ہے کہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں اور اس مذہب کو دہشت گردانہ واقعات سے نہ جوڑا جائے۔

قاہرہ میں مصر کی معتبر ترین جامعہ الازہر کے سربراہ شیخ احمد الطیب نے ہفتے کے روز اپنی ایک اپیل میں کہا کہ دنیا بھر میں مسلمان خود دہشت گردی کا شکار ہیں اور شدت پسندوں کا سب سے زیادہ نشانہ مسلمان ہی بن رہے ہیں۔ الطیب نے عالمی برادری خصوصاﹰ مغربی ممالک کے باشندوں سے اپیل کی کہ اسلام کو دہشت گردی سے نہ جوڑا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا، ’’پیرس میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے بعد مغرب میں قرآن کو نذر آتش کرنے اور مساجد پر حملوں کے واقعات بھی پیش آئے ہیں، جو ہر اعتبار سے دہشت گردی ہیں۔‘‘ شیخ الطیب نے کہا کہ دہشت گردی کا جواب دہشت گردی سے نہ دیا جائے۔

’’مغربی ممالک میں جنہوں نے ایسے حملے کیے، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے ایسے اقدامات بھی ہر حوالے سے دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔‘‘

Anti-Terror-Konferenz in Kairo zu Religion und Extremismus 03.12.2014

جامعہ الازہر اس سے قبل بھی دہشت گردی کے خلاف فتوے جاری کر چکی ہے

دوسری طرف یہ بات بھی اہم ہے کہ پیرس حملوں کے بعد کئی مغربی ملکوں میں مسلمانوں کے خلاف جذبات میں اضافے کی رپورٹیں تو ہیں تاہم ابھی تک ایسی کوئی مصدقہ رپورٹیں سامنے نہیں آئیں کہ ان ملکوں میں قرآنی نسخوں کو احتجاجاﹰ یا نفرت کی بنا پر جلایا گیا ہو۔

جامعہ الازہر کو دنیا بھر میں مسلمان نہایت معتبر سمجھتے ہیں اور یہ جامعہ بار بار اپنے فتووں میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ اور دیگر شدت پسند گروپوں کے اقدامات کی مذمت کر چکی ہے۔ جامعہ الازہر نے بیروت، پیرس اور مالی میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

شیخ الطیب نے کہا، ’’خدا ہی جانتا ہے کہ انسانیت مستقبل قریب میں کس جانب بڑھے گی، کیوں کہ موت کے سوداگروں اور شیطان کے پیروکاروں کا ہر جانب راج ہی راج ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہم ہر کسی سے توقع کرتے ہیں، خصوصاﹰ دانشوروں اور مذہب سے وابستہ افراد سے، کہ وہ جذبات میں نہ بہہ جائیں۔ وہ ہر حال میں اسلام کو دہشت گردانہ واقعات سے الگ رکھیں کیوں کہ دہشت گرد مسلمانوں کی مجموعی تعداد میں ایک معمولی کسر کے برابر بھی نہیں ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ مسلمان اس سے قبل بھی اور اب بھی ان دہشت گرد اور شدت پسند گروہوں کے حملوں سے متاثر ہو رہے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والے حملوں کی تعداد دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف ہونے والے حملوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔