’اسلام کا امن پیغام‘، الازہر کے مفتی اعظم کا دورہ جرمنی | فن و ثقافت | DW | 13.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’اسلام کا امن پیغام‘، الازہر کے مفتی اعظم کا دورہ جرمنی

مصر کی تاریخی جامعہ الازہر کے مفتی اعظم شیخ احمد الطیب منگل پندرہ مارچ کو اپنے ایک دورے پر جرمنی پہنچیں گے، جہاں وہ برلن میں ارکان پارلیمان اور مختلف مذاہب کے نمائندوں سے ’اسلام کے امن پیغام‘ کے موضوع پر خطاب کریں گے۔

Anti-Terror-Konferenz in Kairo zu Religion und Extremismus 03.12.2014

قاہرہ میں مذہب اور انتہا پسندی کے موضوع پر ایک کانفرنس میں شریک الازہر کے مفتی اعظم شیخ احمد الطیب (بائیں سے دوسرے)، فائل فوٹو

وفاقی جرمن دارالحکومت سے اتوار تیرہ مارچ کو موصولہ نیوز ایجنسی کے این اے کی رپورٹوں کے مطابق مفتی اعظم الطیب برلن پہنچنے کے بعد سیدھے پہلے جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں یا بنڈس ٹاگ جائیں گے، جہاں وہ پارلیمانی اراکین، مختلف مذاہب کے نمائندوں اور ماہرین کے ایک بڑے اجتماع سے ترویج امن کے لیے اسلام کی اہلیت کے موضوع پر خطاب کریں گے۔

مصری دارالحکومت قاہرہ میں قائم مشہور عالم جامعہ الازہر کے مفتی اعظم کو دنیا بھر میں سنی اسلام کا سب سے بااثر عالم سمجھا جاتا ہے۔ برلن میں اپنے خطاب کے بعد 70 سالہ شیخ احمد الطیب صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر میونسٹر جائیں گے، جہاں وہ دو روز تک قیام کریں گے۔

میونسٹر میں ان کے قیام کا مقصد وہاں ہونے والی ’عالمی مذاہب کی کانفرنس‘ میں شرکت ہو گی۔ میونسٹر یونیورسٹی کی طرف سے، جہاں عالمی مذاہب کی یہ کانفرنس ہو گی، بتایا گیا ہے کہ مفتی اعظم الازہر کے اس دورہ یورپ کا ایک انتہائی اہم مرحلہ ان کی آئندہ ہفتے 19 مارچ کے روز پوپ فرانسس سے ہونے والی ملاقات ہو گی۔

شیخ احمد الطیب کی کلیسائے روم کے سربراہ اور دنیا بھر کے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کے ساتھ یہ ملاقات اطالوی دارالحکومت روم میں ویٹیکن میں ہو گی، جہاں پوپ خود مفتی اعظم کا استقبال کریں گے۔

Al-Azhar-Universität in Kairo

قاہرہ میں تاریخی جامعہ الازہر کا ایک منظر

قاہرہ کی الازہر یونیورسٹی اور ویٹیکن سٹی کے مابین اعلیٰ ترین سطح پر باقاعدہ ملاقاتوں اور تبادلہ خیال کا سلسلہ 1998ء میں شروع ہوا تھا، جو 2011ء میں منقطع ہو گیا تھا۔

کے این اے کے مطابق اس کی وجہ 2005ء سے لے کر 2013ء تک پاپائے روم کے منصب پر فائز رہنے والے بینیڈکٹ شانزدہم کا 2011ء میں کیا جانے والا یہ مطالبہ بنا تھا کہ مصر میں قبطی عقیدے کے مسیحیوں کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے بہتر اقدامات کیے جانے چاہییں۔

2013ء میں پوپ بینیڈکٹ کے مستعفی ہو جانے اور ان کے جانشین کے طور پر پوپ فرانسس کے انتخاب کے بعد سے ویٹیکن اور الازہر کے باہمی روابط میں دوبارہ کافی بہتری آ چکی ہے۔

DW.COM