اسلام میں ’جنسی غلام‘ رکھنے کی اجازت ہے، برطانوی امام | معاشرہ | DW | 02.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسلام میں ’جنسی غلام‘ رکھنے کی اجازت ہے، برطانوی امام

برطانوی جریدے ’ڈیلی میل‘ نے علی حمودہ نامی ایک مبلغ کا بیان شایع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام میں بعض اوقات ’جنسی غلام‘ رکھنے کی ممانعت نہیں ہے۔ کارڈف کی مسجد کے خطیب نے اس بارے میں حوالے بھی دیے۔

علی حمودہ نے اپنے مؤقف کی وضاحت کر تے ہوئے بعض احادیث کا حوالہ بھی دیا، جن کی ایک تشریح کے مطابق پیغمر اسلام نے کہا تھا کہ قیامت کے آثار میں سے ایک یہ بھی ہے کہ غلام لڑکی اپنے مالک کو جنم دے گی۔

حمودہ تشریح بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’اس کی ایک توجیح یہ بھی ہے کہ قیامت سے قبل دنیا میں بہت زیادہ جنگیں ہوں گی، جیسا کہ ہم آج دیکھ رہے ہیں۔ ان جنگوں کی وجہ سے خواتین کو یرغمال بنا لیا جائے گا، انہیں غلاموں کے طور پر رکھا جائے گا۔‘‘

اس مبلغ کی المنار مسجد میں تقریروں کو ایک انڈر کور رپورٹر نے ریکارڈ کیا تھا۔ گفت گو میں حمودہ نے تیرہ برس تک کی عمر کے بچوں سے کہا کہ ’’قیامت قریب ہے۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں، ’’اور اس وقت جنسی غلام خاتون کے اپنے مالک کے ساتھ تعلقات کی اجازت ہے۔ اس کی اسلام اجازت دیتا ہے کہ غلام خاتون یا بیوی کے ساتھ تعلقات رکھے جا سکتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ تمام اسلامی مبلغین کا حمودہ کے اس بیان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

حمودہ پر بعض برطانوی حلقے یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ شدت پسندی کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے تین ایسے برطانوی نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کیا جنہوں نے شام جا کر ’اسلامک اسٹیٹ‘ میں شمولیت اختیار کی تھی۔

فلسطین میں پیدا ہونے والے حمودہ نے یہ بھی کہا کہ موسیقی ایک ’بیماری‘ اور ’شیطانی آلہ‘ ہے۔

انڈر کور رپورٹر رضوان سید کا کہنا ہے کہ مسجد میں انہوں نے ایسی کتابیں دیکھیں جو تشدد، جنسی تعصب، ہم جنس پرستوں سے نفرت اور ریاست کی جانب سے موت کی سزا کی حمایت کرتی ہیں۔

المنار مسجد دنیا بھر سے اسلامی مبلغین کو دعوت دیتی ہے۔ ’ڈیلی میل‘ کے مطابق محمد مصطفیٰ المخری نامی القاعدہ کا اتحادی اور مصری اسلامی جہاد کا سابق لیڈر بھی یہاں آ چکا ہے۔ المنار کے منتظمین شدت پسندی سے تعلق کی تردید کرتے ہیں۔

چند روز قبل حمودہ نے کہا تھا کہ وہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی مذمت کرتے ہیں اور ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے اور ان کے تناظر میں نہیں رکھا جاتا۔