1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

جرمن پارلیمانی انتخابات

اسلام مخالف سیاسی پارٹی اے ایف ڈی کے بارے میں اہم حقائق

مہاجرت اور اسلام مخالف سیاسی پارٹی متبادل برائے جرمنی (اے ایف ڈی) ملکی سیاست میں ایک نئی قوت قرار دی جا رہی ہے۔ ایک نظر ڈالتے ہیں اس پارٹی کے بارے میں اہم حقائق پر۔

جرمنی ميں چوبیس ستمبر کے پارلیمانی انتخابات میں مرکزی سیاسی پارٹیوں کے علاوہ متبادل برائے جرمنی (اے ایف ڈی) کی بالخصوص مہاجرت اور یورپی یونین مخالف نعرے بازی کی وجہ سے اس کی عوامی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ سیاسی تجزيہ کاروں کے خیال میں اس مرتبہ یہ پارٹی جرمن پارلیمان تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ لیکن مرکزی سیاسی پارٹیاں حکومت سازی کے سلسلے میں اے ایف ڈی کے ساتھ سیاسی اتحاد کو یکسر مسترد کر چکی ہیں۔ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں۔

مہاجرت مخالف

یورپ میں مہاجرین کے حالیہ بحران کے نتیجے میں جرمنی میں بھی لاکھوں مہاجرین آئے ہیں۔ اے ایف ڈی جرمنی کی پہلی سیاسی جماعت تھی، جس نے اس بحران میں حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس موقف کی وجہ سے اس پارٹی کی عوامی سطح پر مقبولیت میں اضافہ ہوا اور اس نے علاقائی انتخابات میں کئی کامیابیاں بھی سمیٹيں۔

اے ایف ڈی مہاجرین مخالف جذبات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں

چانسلر میرکل کا ’امتحان سے پہلے امتحان‘

کولون میں اے ایف ڈی کا اجلاس اور احتجاجی مظاہرے بھی

اے ایف ڈی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کو بند کر دینا چاہیے تاکہ غیر قانونی مہاجرین اس بلاک میں داخل نہ ہو سکیں۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملکی سرحدوں کی نگرانی بھی سخت کر دی جائے۔ اس پارٹی کا اصرار ہے کہ ایسے سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو فوری طور پر ملک بدر کر دیا جائے، جن کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ اس پارٹی کا یہ کہنا بھی ہے کہ ايسے افراد کی مالیاتی مدد کرتے ہوئے ان کے جرمنی سے نکل جانے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

اے ایف ڈی کے مطابق جرمنی میں کم مہاجرین کو پناہ دی جانا چاہیے اور ان پر یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ جرمن معاشرے میں مکمل انضمام کی خاطر کوشش کریں۔ یہ پارٹی دو ٹوک الفاظ میں کہتی ہے کہ اسلام جرمن معاشرے کا حصہ نہیں ہے۔ اے ایف ڈی جرمن زبان، روایتی جرمن ثقافت اور اقدار کے فروغ پر زور دیتی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 00:44

اے ایف ڈی کا اجلاس، کولون میں مظاہرے

یورپی یونین مخالف

متبادل برائے جرمنی کا قیام سن دو ہزار تیرہ میں عمل میں لایا گیا تھا۔

اس وقت اس پارٹی کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ یورپی یونین کے ایسے رکن ممالک کی مالیاتی مدد نہیں کی جانا چاہیے، جو قرضوں میں دھنسی ہوئی ہیں۔

تب اس پارٹی کے رہنما بیرنڈ لوکے نے اس پارٹی کو ایک نئی طاقت قرار دیا تھا لیکن سن دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں یہ پارٹی جرمن پارلیمان تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی تھی۔

 

تاہم سن دو ہزار چودہ میں یورپی پارلیمان کے انتخابات میں یہ پارٹی 7.1 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ یہ اس پارٹی کی پہلی انتخابی کامیابی تھی۔ یہ پارٹی ’متحدہ یورپ‘ کے نظریے کی نفی کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ فیصلہ سازی کا بنیادی حق ملکوں کی حکومتوں کے پاس ہونا چاہیے۔ اے ایف ڈی یورو کرنسی کے خاتمے کا نعرہ بھی لگاتی ہے۔

دائیں بازو کی عوامیت پسندی

’جرمنی پہلے‘ کا نعرہ لگانے والی یہ پارٹی نہ صرف دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے بلکہ یہ ایسے افراد کو بھی اپنی طرف راغب کرنے کی خاطر کوشاں ہے، جو موجودہ سیاسی نظام سے مطمئن نہیں ہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق اے ایف ڈی بالخصوص سابق کمیونسٹ مشرقی جرمنی میں زیادہ مقبول ہے۔ تاہم کچھ جائزوں کے مطابق یہ پارٹی جرمنی بھر میں پھیل چکی ہے۔

بریگزٹ اور امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے تناظر میں کئی ماہر سیاسیات نے کہا ہے کہ جس طرح دیگر ممالک میں عوامیت پسندی کی تحریک مضبوط ہوئی ہے، ویسے جرمنی میں بھی ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں چوبیس ستمبر کے پارلیمانی انتخابات میں اس پارٹی کا جرمن پارلیمان میں رسائی حاصل کرنا مشکل نہیں ہو گا۔

علاقائی سیاست میں کامیابیاں

اے ایف ڈی جرمنی کی سولہ وفاقی ریاستوں میں سے تیرہ کی علاقائی پارلیمان میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ مشرقی جرمنی کے تمام صوبوں میں یہ پارٹی ایوانوں میں موجود ہے۔ علاقائی سطح پر ہونے والے حالیہ انتخابات میں اس پارٹی کی کامیابیاں غیر معمولی ثابت ہوئی ہیں۔ ناقدین کے خیال میں اب یہ پارٹی گراس روٹ سطح پر لوگوں میں سرایت کرتی جا رہی ہے اور مستقبل میں اس کی مقبولیت میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ اسی لیے آئندہ وفاقی پارلیمانی انتخابات میں اس پارٹی کو غیر متوقع طور پر کامیابیاں حاصل ہو سکتی ہیں۔

نیو نازیوں کے لیے نیا گھر؟

اے ایف ڈی جمہوریت کی حامی ہے لیکن کئی سیاسی ناقدین الزام عائد کرتے ہیں کہ اس پارٹی کے کچھ ممبران نیو نازی ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ پارٹی ایک ایسے وقت میں عوامی سطح پر مقبول ہوئی ہے، جب انتہائی دائیں بازو کے نظریات کی حامل پارٹیاں تاریکی میں گم ہوتی جا رہی ہیں۔ ان میں این پی ڈی جیسی نازی خیالات کی حامل پارٹی بھی شامل ہے۔

تاہم وزارت داخلہ کے مطابق اے ایف ڈی کو ایک غیر آئینی جماعت قرار نہیں دیا جا سکتا جبکہ اس پارٹی کی مسلسل نگرانی بھی نہیں کی جاتی ہے۔ یہ پارٹی روایتی جرمن گھرانے کے نظریے کی حامی ہے اور اسقاط حمل کے بھی خلاف ہے۔

طاقت کی جنگ

تقریبا پانچ برس قبل وجود میں آنے والی اس پارٹی کے اندر طاقت کی جنگ جاری ہے۔ ابتدائی طور پر اس پارٹی کی قیادت قدرے اعتدال پسندی کی طرف مائل تھی لیکن اب ایسے ارکان کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق اب اس پارٹی کے اہم عہدوں پر کٹر نظریات کے حامل افراد فائز ہوتے جا رہے ہیں۔

پيگيڈا کے ساتھ ناخوشگوار تعلقات

اے ایف ڈی اور مہاجرت مخالف تحریک پیگیڈا کے باہمی تعلقات بہتر نہیں ہیں۔ پیگیڈا مشرقی جرمن شہر ڈریسڈن میں باقاعدہ بطور پر احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم اے ایف ڈی نے پیگیڈا کے کئی حامیوں کی حمایت بھی حاصل کی ہے۔ تاہم یہ امر اہم ہے کہ پیگیڈا ایک سیاسی پارٹی نہیں بلکہ شہریوں کی ایک تحریک ہے۔

میڈیا سے بے نیاز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بریگزٹ رہنما نائیجل فاراژ کی طرح جرمن سیاسی پارٹی اے ایف ڈی کے رہنما بھی مرکزی میڈیا سے متنفر ہیں۔ اے ایف ڈی مرکزی میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ دوستانہ تعلقات بنانے کے لیے کوشش بھی نہیں کرتی بلکہ زیادہ تر میڈیا سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دینا بھی مناسب نہیں سمجھتی۔

DW.COM

Audios and videos on the topic