1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلام سے بڑھتا ہوا بےجا خوف القاعدہ کے حق میں: ماہرین

مبصرین کے مطابق گراؤنڈ زیرو کے قریب اسلامی مرکز کی تعمیر کے خلاف مظاہرے، فلوریڈا میں قرآن جلانے کی دھمکیاں، اور اسی طرح کے دیگر اقدامات دراصل القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہیں۔

default

لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس کے ماہر برائے مشرق وُسطیٰ اور بین الاقوامی تعلقات پروفیسر فواز گیرجز کےمطابق مغرب میں بڑھتا ہوا اسلام کا بے جا خوف اور تعصب دراصل القاعدہ کے لئے آکسیجن کی طرح ہے۔

پروفیسر گیرجز کے مطابق، " آج کل امریکہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دراصل ایک طرح سے اسامہ بن لادن کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہے۔" مزید یہ کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تمام تصور ہی دراصل القاعدہ کو مذہبی اور نظریاتی اعتبار سے ایسے ہتھیار فراہم کرتا ہے جن کے ذریعے وہ دیگر مسلمانوں کو یہ باور کراتے ہوئے اپنے ساتھ شامل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ دیکھو مغرب اسلام کے ماننے والوں کے خلاف جنگ کررہا ہے اور ہم اس کے تحفظ کے لئے لڑ رہے ہیں۔"

Osama bin Laden / Terrorvideo

" آج کل امریکہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسامہ بن لادن کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہے۔" پروفیسر گیرجز

گیرجز کے خیال میں القاعدہ کی حکمت عملی ہی یہی ہے کہ تہذیبوں کے درمیان ٹکراؤ کو ہوا دی جائے۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ مغرب کو جان بوجھ کر ٹکراؤ کی پالیسی کی طرف دھکیلا جارہا ہے اور یہ ایک طرح کا جال ہے۔

انہوں نے فلوریڈا کے ایک بنیاد پرست پادری کی جانب سے قرآن مجید کے نسخے جلانے کے منصوبے پر اسلامی دنیا خاص طور پر افغانستان اور انڈونیشیا میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عوام کی اکثریت کو کیسے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کیا جاسکتا ہے۔

گیرجز اور فرانس کے اسکول آف سوشل سٹڈیز EHESS کے محقق ڈومینیک تھومس اس بات پر متفق ہیں کہ القاعدہ جان بوجھ کر اسلام کا شدت پسند رُخ اس لئے پیش کرتی ہے تاکہ وہ اپنا ایجنڈا اور سیاسی مقاصد حاصل کرسکے۔

0ein Jahr Obama Flash-Galerie

قرآن مجید کے نسخے جلانے کے منصوبے کے خلاف افغانستان اور انڈونیشیا میں بڑے پیمانے پر پرتشدد مظاہرے ہوئے۔

برطانیہ میں قائم اسلامی تنظیم 'مسلم پارلیمنٹ آف گریٹ بریٹن' کے سربراہ غیاث الدین صدیقی بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایسے شدت پسند اپنے سیاسی مقاصد کے حصول اور لوگوں کی بھرتی کے لئے مذہب کا نام استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے اسے ایک افسوسناک بات قرار دیا۔ غیاث الدین کے مطابق اسلام کا ان لوگوں کے ایجنڈا سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اسلام تو ایک بہت ہی سادہ مذہب ہے جو امن، محبت، بھائی چارے، دوسرے کی عزت کرنے کے علاوہ عدل وانصاف کی تعلیم دیتا ہے۔

مسلم پارلیمنٹ آف گریٹ بریٹن کے سربراہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ساری صورتحال کے باعث سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو پہنچ رہا ہے، کیونکہ ایک جانب تو شدت پسندوں کی کارروائیوں کا شکار بھی زیادہ تر مسلمان بنتے ہیں تو دوسری جانب ایسے دہشت گرد اسلام کی بدنامی کا بھی باعث بن رہے ہیں۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : کِشور مُصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس