1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلام آباد ہوائی اڈے پر تشدد ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘

بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اسلام آباد پر ایف آئی اے کی خاتون اہلکار کی طرف سے دومسافر خواتین پر کیے جانے والے تشدد کی ویڈیو نے پاکستان کے سماجی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے۔

ایف آئی اے ذرائع نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ واقعہ پندرہ اپریل کا ہے۔ اس ایجنسی کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کی شرط پر بتایا، ’’یہ ساراجھگڑا شروع ہوا ایک معمولی سی بات پر۔ ایک مسافر خاتون، جس کے ساتھ اس کی ماں اور بہن بھی تھی، نے ایف آئی اے کی اہلکار کو کہا کہ بیت الخلاء میں ٹشوز نہیں ہیں، جس پر خاتون اہلکار نے کہا کہ ٹشوز رکھنا ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس بات پر مسافر خاتون کی اہلکار سے تلخی کلامی ہوئی، جو بعد میں جھگڑے میں تبدیل ہوگئی۔‘‘
ایف آئی اے کے ایک اور ذرائع نے ڈی ڈبلیو کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا، ’’اسلام آباد ایئرپورٹ پر ڈی جی ایف آئی اے نے خواتین پر تشدد کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکڑ ندیم اختر کو معطّل کردیا ہے۔ ڈی جی نے متعلقہ خاندان کے سربراہ سے بھی فون پر رابطہ کیا اور ڈائریکٹر ایڈمن کو انکوائری افسر مقرر کر کے 48 گھنٹوں میں اس معاملے پر رپورٹ دینے کا حکم دے دیا ہے۔‘‘


یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر آتے ہی وائرل ہوگئی اور لاکھوں لوگوں نے اس کو شیئر کیا۔ ٹویٹر پر ایک صارف نے لکھا،’’ایف آئی اے کی ایک خاتون
ْ اہلکار نے خواتین کو بری طرح مارا پیٹا، یہاں کسی کی بھی عزت و احترام محفوظ نہیں ہے۔‘‘ ایک معروف ٹی اینکر نے لکھا، ’’اگر چوہدری نثار میں ہمت ہے تو وہ ڈی جی ایف آئی اے، ڈپٹی ڈی جی ایف آئی اے اور ایئر پورٹ اسٹاف کو برخاست کریں۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ایسا ہی کیا جانا چاہیے۔‘‘
فیس بک پر ایک صارف نے لکھا،’’چوہدری نثار کو اس واقعہ پر استعفیٰ دے دینا چاہیے اور اس پر انکوائر ی کرا کے ذمہ داروں کا تعین کیا جانا چاہیے۔‘‘
ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا، ’’اس کو کہتے ہیں بہترین حکومت اور بہترین خدمت۔‘‘
معروف سماجی کارکن فرزانہ باری نے اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہمارے معاشرے میں ہر طاقت ور کمزور کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ملک میں رائج ہے۔ دنیا کے کسی ایئرپورٹ پر آپ کو یہ منظر نہیں ملے گا کہ ایک سرکاری ملازم بے رحمی سے خواتین مسافروں پر تشدد کر رہی ہو۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ سینکڑوں لوگ یہ منظر دیکھ رہے تھے لیکن کسی نے بھی اس خاتون اہلکار کو تشدد کرنے سے نہیں روکا کیونکہ اس اہلکار کا تعلق ایف آئی اے ہے، جو ملک میں ایک طاقتور ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ میرے خیال میں صرف برطرفی سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ جو اہلکار اس میں ملوث ہے اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے اور جو افسران تماشہ دیکھ رہے تھے ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔‘‘

Chaudhry Nisar Ali Khan

’’چوہدری نثار کو اس واقعہ پر استعفیٰ دے دینا چاہیے‘‘


پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایف آئی اے نے پندرہ اپریل کے بعد مسافر خواتین کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دی تھی اور ان مسافر خواتین پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ایف آئی اے کی اہلکار پر تشدد کیا ہے لیکن منظرِ عام پر آنے والی نئی ویڈیوسے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس تشدد میں ایف آئی اے کی اہلکار ملوث ہے۔ ڈے ڈبلیو نے متعدد بار متعلقہ تھانے اور تفتیشی افسر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے ٹیلی فون کالز کا جواب نہیں دیا اور نہ ہی تھانے میں موجود متعلقہ اہلکار نے اس ایف آئی آر کے مندرجات سے ڈی ڈبلیو کو آگا ہ کیا۔
ڈوئچے ویلے نے خاتون مسافر کے والد خالد خان سے فون پر متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے بھی فون کالز موصول نہیں کیں۔

ملتے جلتے مندرجات