1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلام آباد کے ڈی چوک میں چار روزہ احتجاجی دھرنا ختم

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈی چوک میں ممتاز قادری کے حامیوں کا چار روز سے جاری احتجاجی دھرنا حکومت کے ساتھ ’کامیاب‘ مذاکرات اور ایک سات نکاتی معاہدے کے نتیجے میں بدھ تیس مارچ کی شام اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

اس معاہدے کے مطابق تعزیرات پاکستان کی توہین مذہب سے متعلق دفعہ دو سو پچانوے سی میں کوئی ترمیم زیر غور ہے اور نہ ہی اس میں کوئی ترمیم کی جائے گی۔ معاہدے کے مطابق حکومت پرامن احتجاج کرنے والے گرفتار افراد کو فوراﹰ رہا کر دے گی۔ اس کے علاوہ توہین رسالت کے مقدمات میں سزا یافتہ کسی شخص کو کوئی رعایت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

معاہدے کی رو سے فورتھ شیڈول کی فہرست پر نظر ثانی کا عمل جاری ہے اور اس میں سے بے گناہ افراد کے نام خارج کر دیے جائیں گے۔ معاہدے کے تحت علمائے کرام پر درج مقدمات کی واپسی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

معاہدے کی رو سے میڈیا پر فحش پروگراموں کی روک تھام کے لیے علمائے کرام ثبوتوں کے ہمراہ پیمرا سے رجوع کریں گے، جو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا مجاز ادارہ ہے۔ معاہدے کے آخری نکتے کے تحت ملک میں نظام مصطفیٰ کے نفاذ کے لیے سفارشات مرتب کر کے وزارت مذہبی امور کو پیش کی جائیں گی۔

اس معاہدے کے بعد دھرنے کی قیادت کرنے والے سنی تحریک اور دیگر مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے مظاہرین کو پرامن طور پر منتشر ہونے کی ہدایت کر دی۔ دھرنا ختم ہونے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ چار روز سے بند موبائل فون سروس بھی بحال کر دی گئی۔ تاہم ریڈ زون کو جانے والے راستوں پر رکاوٹوں کے لیے کھڑے کیے گئے کنٹینرز بدستور موجود ہیں۔ بدھ کو چوتھے روز بھی ریڈ زون میں واقع حساس عمارتوں کی سکیورٹی پر فوج مامور تھی۔ اس کے علاوہ رینجرز، پولیس اور ایف سی کے دستے بھی سکیورٹی فرائض کی انجام دہی کے لیے موجود تھے۔

اس سے قبل وزارت داخلہ نے ممتاز قادری کے حامیوں پر مشتمل ہجوم کے ڈی چوک پہنچ کر وہاں دھرنے کی شکل اختیار کرنے سے جڑے حالات اور اس کے ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی۔ اس تین رکنی کمیٹی کے سربراہی وزارت داخلہ کے خصوصی سیکرٹری شعیب صدیقی کریں گے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق کمیٹی سات دن کے اندر اندر اپنی رپورٹ وزارت داخلہ کو پیش کرے گی۔

گزشتہ شب وزیر داخلہ چوہدری نثار نے دھرنے کے شرکاء کو پرامن طور پر منتشر ہونے کے لیے آج بدھ کے روز بعد دوپہر ایک بجے تک کا وقت دیا تھا۔ تاہم یہ وقت گزرنے کے بعد بھی حکومت اور انتظامیہ کے نمائندے مظاہرین کی قیادت سے بات چیت کرتے رہے اور بالآخر ایک معاہدے کے نتیجے میں یہ دھرنا ختم کر دیا گیا۔

بدھ کی شام اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ آج شام پانچ بجے تک دھرنے کے شرکاء کے خلاف آپریشن کا فیصلہ ہو گیا تھا لیکن ڈیڈ لائن کے آخری لمحات میں قابل احترام شخصیات نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز قادری کے چہلم کے لیے جمع ہونے والے چند لوگوں نے ناجائز فائدہ اٹھا کر مارچ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ریڈ زون میں بالعموم اور ڈی چوک میں بالخصوص کسی کو احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

گزشتہ اتوار کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کے چہلم میں شرکت کے بعد ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کر دیا تھا۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی تھی اور اس دوران جھڑپوں میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی بھی ہو گئے تھے۔

جھڑپوں کے دوران مظاہرین نے اسلام آباد میں میٹرو اسٹیشنوں پر توڑ پھوڑ بھی کی تھی اور چار کنٹینر بردار ٹرکوں اور آگ بھجانے والی ایک گاڑی کو جلا دیا تھا۔ بعد میں مظاہرین تمام رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے ریڈ زون میں داخل ہوگئے تھے۔

DW.COM