1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلام آباد کے ایک معروف ریستوراں پر بم حملہ

پاکستانی دارلحکومت اسلام آباد کے ایک مصروف تجارتی علاقے میں ہفتہ کی رات ایک معروف اطالوی ریستوراں میں ہونے والے بم دھماکے میں ایک ترک خاتون ہلاک اور دس دیگر غیر ملکی شہری زخمی ہو گئے۔

لاہور میں FIA کی عمارت پر خود کش بم حملے کے بعد لی گئی ایک تصویر

لاہور میں FIA کی عمارت پر خود کش بم حملے کے بعد لی گئی ایک تصویر

سرکاری ذرائع کے بقول اس حملے میں استعمال کیا جانے والا بم بہت طاقت ور تھا اور نشانہ اپنے اطالوی کھانوں کے لئے مشہور ایک ایسے پاکستانی ریستوراں کو بنایاگیا جو غیر ملکیوں میں بہت مقبول تھا۔ اسلام آباد کی سپر مارکیٹ میں Luna Caprese نامی اس ریستوراں پر یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق ہفتہ کی رات آٹھ بج کر 45 منٹ پرکیا گیا اور اس وقت کئی مہمان، جن کی اکثریت غیر ملکیوں پر مشتمل تھی، ریستوراں کے عقبی باغیچے میں رات کا کھانا کھا رہے تھے۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ شاہد ندیم بلوچ نے خبر ایجنسیوں کو بتایا کہ ہلاک ہونے والی خاتون ایک ایسی ترک شہری تھی جو ایک غیر سرکاری تنظیم کے لئے کام کرتی تھی۔ زخمیوں کا تعلق مختلف قومیتوں سے بتایا گیا ہے۔ ان میں سے کم ازکم چار امریکی ہیں جوملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی سفارت خانے کے ملازمین تھے جبکہ دیگر زخمیوں میں سے دو جاپانی، ایک جرمن، ایک اطالوی اور ایک کینیڈاکا شہری بتایاگیا ہے۔

پاکستانی وزارت داخلہ کے ترجمان جاوید چیمہ نے کہا کہ یہ دھماکہ ایک بم حملہ تھا لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ بم ریستوراں کے اندر نصب کیا گیا تھا یا یہ کوئی ایسا گرینیڈ تھا جو باہر سے اس ریستوراں کے اندر پھینکا گیا تھا۔

ریستوراں کے مینیجر شوکت خان کے بقول دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد میں سے کئی ایک کے جسمانی اعضاء مختلف جگہوں پر جاکر گرے اور ہر طرف خون ہی خون نظر آرہا تھا۔

ایک مقامی پریس فوٹوگرافر نے بتایا کہ دھماکے کے بعد ریستوراں کے عقبی حصے میں دیوار کے قریب ایک بڑا گڑھا پیدا ہو گیا۔ لندن میں برطانوی دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ زخمیو ں میں برطانوی ہائی کمشن کا ایک کارکن بھی شامل ہے جسے معمولی زخم آئے۔

اسلام آباد میں یہ بم دھماکہ ، جس کے بارے میں پاکستانی حکام کا خیال ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ اور طالبان عسکریت پسندوں کی کارروائی ہو سکتا ہے، صوبہ پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں کئے گئے ان دوہرے خود کش بم حملوں کے محض چار روز بعد کیا گیا جن میں سے ایک میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کی شاہراہ قائد اعظم کے قریب کئی منزلہ عمارت کو نشانہ بنایا گیا تھا اور جن میں مجموعی طور پر 27 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔