1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسلام آباد کی کچی آبادیوں کے خلاف کارروائی، ’مسیحی نشانہ‘

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں غیر قانونی کچی آبادیوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر انسانی حقوق کے اداروں نے شہری انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اے ایف پی نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سی ڈی اے کو خوف تھا کہ ان بستیوں میں آباد مسیحیوں کی تعداد زیادہ ہو رہی ہے، جس سے اسلام آباد کی مسلم آبادی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ مبینہ طور پر اس لیے اسلام آباد کی انتظامیہ ’سی ڈی اے نے‘ دارالحکومت میں واقع کچی آبادیوں کو کریک ڈاؤن کا نشانہ بنایا ہے۔

اسلام آباد میں واقع متعدد کچی آبادیوں میں زیادہ تر مسیحی یا افغان مہاجرین رہتے ہیں۔ ایک عدالتی دستاویز کے منظر عام پر آنے سے معلوم ہوا ہے سی ڈی اے نے ان کچی آبادیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے۔

سن2014 میں سی ڈی اے نے اسلام آباد میں واقع ان کچی آبادیوں کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ سی ڈی اے کے مطابق یہ بستیاں نہ صرف غیر قانونی تھیں بلکہ یہ جنگجوؤں کے لیے ایک محفوظ ٹھکانہ بھی تھیں۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے بلڈوزرز کی مدد سے جب ان کچی آبادیوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی تو مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے تھے۔

بائیں بازو کی عوامی ورکرز پارٹی ’اے ڈبلیو پی‘ نے اس تناظر میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا تاکہ کچی آبادیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ تاہم عدالت نے سی ڈی اے کی طرف سے کی گئی کارروائیوں کو قابل جواز قرار دے دیا۔ سی ڈے اے کے مطابق، ’’معلوم ہوتا ہے کہ مسیحی کمیونٹی کی طرف سے زمین پر قبضہ کرنے کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔۔۔ اسلام آباد کے ماحول کو بہتر بنانے اور خوبصورتی کے لیے ان کچی آبادیوں کو ختم کرنا انتہائی ضروری ہے۔‘

عوامی ورکرز پارٹی سے وابستہ عمار راشد نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقلیتوں اور مزدور طبقے کے استحصال کا یہ ایک پرانا طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو یہ حق ہرگز حاصل نہیں ہے کہ وہ اسلام آباد کی مذہبی ڈٰیموگرافی کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے۔ انسانی حقوق کی سرکردہ خاتون کارکن فرزانہ باری کہتی ہیں، ’’جس نے یہ رپورٹ ترتیب دی ہے، ایکشن اس کے خلاف لینا چاہیے۔‘‘

Islamabad Settlements - Islamabad Slums

اسلام آباد میں واقع متعدد کچی آبادیوں میں زیادہ تر مسیحی یا افغان مہاجرین رہتے ہیں

یہ امر اہم ہے کہ اسلام آباد میں سکونت پذیر زیادہ تر مسیحی سینیٹری ورکرز ہیں، یہ ایک ایسا کام ہے جو مسلمان اپنے لیے غیر مناسب خیال کرتے ہیں۔ فرزانہ باری نے اس تناظر میں کہا کہ سی ڈی اے جن مسیحوں سے خوفزد ہے، وہی اسلام آباد کو صاف ستھرا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انسانی حقوق کے ایک اور کارکن شمعون گِل نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’معلوم ہوتا ہے کہ اب مسیحیوں کو اسلام آباد رہنے کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت بھی ہو گی۔‘‘ اسلام آباد میں مذہبی ڈیموگرافی کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات نہیں ہیں لیکن انسانی حقوق کے اداروں کا اندازہ ہے کہ وہاں آباد تقریبا پانچ لاکھ تیس ہزار نفوس میں پچاس ہزار کے قریب مسیحی بھی شامل ہیں۔