1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلام آباد کچہری پر حملہ، کم ازکم گیارہ افراد ہلاک

آج صبح اسلام آباد میں ایف ایٹ کے علاقے میں واقع کچہری پر ہونے والے حملے میں کم ازکم گیارہ افراد ہلاک جبکہ دو درجن زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک شدگان میں ایک ایڈیشنل سیشن جج بھی شامل ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کی صبح نامعلوم حملہ آوروں نے عدالت میں گھس کر بلاتخصیص فائرنگ کی اور ہینڈ گرنیڈ کا استعمال بھی کیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں کچھ وکلاء اور ایڈیشنل سیشن جج رفاقت اعوان ہلاک ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق نامعلوم مسلح افراد پندرہ منٹ تک کچہری کےاحاطے میں کھلے عام فائرنگ کرتے رہے۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ سکندر حیات نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے،’’ دو یا تین مسلح افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی، جس کے بعد دو خود کش حملے ہوئے۔ اس کارروائی میں گیارہ افراد ہلاک اور چوبیس زخمی ہو گئے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ تمام حملہ آور اپنی کارروائی سر انجام دیتے ہوئے فرار ہو گئے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک حملہ آور پولیس کی جوابی فائرنگ سے زخمی بھی ہو گیا تھا۔

طبی ذرائع نے اس کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق کر دی ہے۔ موقع پر موجود اے ایف پی کے ایک نمائندے نے بتایا ہے کہ اس دہشت گردانہ کارروائی کے بعد کورٹ کے احاطے میں خون اور انسانی اعضاء بکھرے ہوئے تھے۔

زخمیوں کو پمز ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ پولیس نے علاقے کا محاصرہ کرتے ہوئے ابتدائی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے مختلف علاقے 2007ء سے طالبان کی دہشت گردانہ کارروائیوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں تاہم دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ کچھ سالوں سے ایسی کوئی کارروائی نہیں دیکھی گئی تھی۔ ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔