1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلام آباد میں پہلے بلدیاتی الیکشن کے لیے ووٹنگ جاری

پاکستانی دارالحکومت میں پہلی مرتبہ بلدیاتی الیکشن کے سلسلے میں رہائشی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ اِس موقع پر سکیورٹی انتہائی سخت رکھی گئی ہے۔

اسلام آباد میں پولنگ آج صبح مقامی وقت کے مطابق سات بجے شروع ہوئی اور یہ شام ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہے گی۔ یہ الیکشن اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت کروائے جا رہے ہیں۔ اِس سے قبل اسلام آباد میں سن 1979 میں اُس وقت کی فوجی حکومت نے غیر جماعتی بنیاد پر الیکشن کروائے ضرور لیکن یہ شہری حدود میں نہیں بلکہ صرف دارالحکومت کے نواحی دیہی علاقوں میں کروائے گئے تھے۔

اسلام آباد کی آبادی دو ملین خیال کی جاتی ہے۔ اِس کے شہری علاقے کو پچاس وارڈوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہی وارڈز بنیادی یونین کونسل کی تشکیل کریں گے۔ ہر وارڈ کی اپنی یونین کونسل اور چیرمین ہو گا۔ پچاس وارڈوں کے لیے پونے سات لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز امکاناً اپنا ووٹ ڈالنے پولنگ اسٹیشنوں پر جا سکتے ہیں۔ یونین کونسلوں کے لیے دو ہزار 407 امیدوار میدان میں ہیں۔ کچھ پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی سامان کی ترسیل نہ ہونے کی وجہ سے وہاں پولنگ صبح سات بجے شروع نہ ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

اسلام آباد کی پچاس یونین کونسلوں کے لیے کل امیدواروں میں سے 972 آزاد ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نون نے 506 امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کی تعداد 479 ہے۔ جماعت اسلامی کے بھی164 امیدوار میدان میں ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی نے 81 امیدوار انتخابی عمل میں شریک ہیں۔ انتخابات کی مسلسل مانیٹرنگ کے لیے الیکشن کمیشن نے کنٹرول روم قائم کر دیا ہے۔ سرکاری حکومتی اداروں میں نصف دن کے بعد ملازمین کو چھٹی دے دی جائے گی تاکہ وہ اپنا ووٹ ڈال سکیں۔

مختلف وارڈوں کی یونین کونسلوں کے پچاس چیرمین اسلام آباد کی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے رکن ہوں گے۔ یہ پچاس اراکین بعد میں مزید سولہ اراکین کا انتخاب کریں گے۔ ان میں نو خواتین شامل ہوں گی۔ اسلام آباد کی بلدیاتی کونسل کے اراکین کی تعداد چھیاسٹھ ہو گی۔ یہ اراکین ایک چیرمین اور تین نائب چیرمینوں کا انتخاب کریں گے۔