1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلام آباد میں پانی سے متعلق پاک بھارت مذاکرات مکمل

پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ وولر بیراج پر سیکرٹری سطح کے مذاکرات اسلام آباد میںاختتام پزیر ہوگئے۔

default

ان مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی جاوید اقبال نے کی جبکہ بھارتی وفد کی قیادت آبی وسائل کے سیکرٹری دھرو وجے سنگھ نے کی۔

ان مذاکرات کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے اس مسئلے کوسندھ طاس معاہدے کے تحت جلد حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اعلامیے کے مطابق بھارت وولر بیراج سے متعلق جامع ٹیکنیکل ڈیٹا ایک ماہ کے اندر پاکستان کو فراہم کرے گا۔ پاکستان اس ڈیٹا کا جائزہ لے کراپنے موقف سے بھارت کو پندرہ ستمبر تک آگاہ کرے گا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ان فنی معاملات کے نتائج پر بھی سندھ طاس معاہدے کی روشنی میں ہی پیش رفت کی جائے گی۔

دو روزہ مذاکرات کے پہلے دن یعنی جمعرات کو بظاہر ڈیڈ لاک کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی تاہم جمعے کے روز مزاکرات کے اختتام سے قبل ہی دونوں جانب سے اس طرح کے اشارے دیے گئے جن کے مطابق مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔

Indien Pakistan Unabhängigkeitstag 2007 Feiern

مزاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر جمعے کو بھارتی سیکرٹری آبی وسائل نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاتھا کہ بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے اور وہ دونوں ممالک کے عوام کے مفاد کے لیے ان مذاکرات کو جاری رکھنے اور ممکنہ حد تک لچک دکھانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ یہ بات چیت چلتی رہے گی جب تک اس مسئلے کا کوئی حل نہ نکال لیا جائے۔ دونوں طرف یہ مضبوط ارادہ موجود ہے کہ اس معاملے کا ایسا حل نکالا جائے جس سے دونوں ممالک کے عوام کا فائدہ ہو۔‘‘

بھارت نے اپنے زیرانتظام جموں کشمیر کے قصبے سوپور کے قریب دریائے جہلم پر وولر جھیل کے مقام پر 1984ء میں بیراج کی تعمیر کا کام شروع کیا تھا تاہم پاکستان اس بیراج کو دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کے لیے 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ اسی سبب پاکستان کی جانب سے اعتراضات اٹھائے جانے کے بعد بھارت نے 1987ء میں اس منصوبے کی تعمیر کا کام روک دیا تھا۔ اس سے قبل وولر بیراج ہی کے تنازعے پر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے 13 ادوار ہو چکے ہیں اور یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان ممبئی حملوں سے قبل چلنے والے جامع مذاکرات کے ایجنڈے میں بھی شامل تھا۔

پاکستان وولر بیراج پر اپنے موقف کی تائید کے لیے غیر جانبدارانہ ماہر اور بین الاقوامی ثالثی عدالت میں بھی لے جانے کے لیے تیار ہے تاہم اب بھارت اس مجوزہ بیراج کے ڈیزائن کو تبدیل کرنے پر رضا مند ہو گیا ہے بھارتی آبی وسائل کے سیکرٹری کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے دونوں ممالک کے عوام کا فائدہ ہوگا۔ تاہم پاکستانی سیکرٹری پانی و بجلی کا موقف ہے کہ اس سے پاکستان کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ انتہائی کم ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم برصغیر کےبعد سے ہی آبی تنازعات چلے آ رہے ہیں اور اس وقت وولر بیراج کے علاوہ بھارت کی طرف سے تعمیر کیے گئے کشن گنگا ہائیڈل پاور پراجیکٹ پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس