1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلام آباد میں خودکش حملہ، دو افراد ہلاک

اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ میں واقع ایک نجی بینک میں خودکش حملے کے نتیجے میں حملہ آور اور بینک کا ایک سیکورٹی گارڈ ہلاک ہو گئے۔ حملے میں تین افراد زخمی بھی ہوئے۔

default

نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دو دنوں کے دوران دہشتگردی کی دوسری کارروائی تھی۔ اس سے قبل اتوار کے روز اسلام آباد کے مضافاتی علاقے بہارہ کہو میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے 3 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس کے مطابق نو عمر خودکش حملہ آور نے خود کو اس وقت دھماکے سے اڑا لیا جب وہ سلک بینک نامی نجی بینک کے اندر جانے کی کوشش کر رہا ہے تھا تو سیکورٹی گارڈ نے مزاحمت کی۔ اس دھماکے کے نتیجے میں بشیر نامی گارڈ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ دیگر تین زخمی افراد کو طبی امداد پہنچانے کے لیے پمز ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

آئی جی اسلام آباد پولیس واجد درانی نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ حملہ خودکش تھا۔ انہوں نے کہا: ’’ ہمیں اندر خودکش حملہ آور کی باڈی ملی ہے۔ دھڑ اور جسم کے حصے بکھرے ہوئے ہیں اس کی باڈی کو محفوظ کیا جائے گا اس کے بعد مزید کام کریں گے ۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے تلاشی کا کام مکمل کر لیا ہے۔‘‘

متاثرہ بینک کے قریب واقع ایک اور نجی بینک کے ملازم اور عینی شاہد نے بتایا کہ وہ اپنی گاڑی پر کھانا کھانے کے لیے نکلے ہی تھے تو دھماکہ ہو گیا اور جب واپس آئے تو وہاں دھواں اٹھ رہا تھا۔ بینک کے قریب واقع ایک دکان کے مالک نے بتایا کہ اڑھائی سے تین بجے کے درمیان دھماکہ ہوا، شیشے ہر طرف بکھر گئے، کئی گاڑیاں تباہ ہو گئیں اور بہت زیادہ دھواں اٹھ رہا تھا۔

حکام اس خودکش حملے کی کڑیاں بھی دہشتگردی کے انہی واقعات سے جوڑ رہے ہیں جو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے تواتر کے ساتھ ملک بھر میں جاری ہیں

حکام اس خودکش حملے کی کڑیاں بھی دہشتگردی کے انہی واقعات سے جوڑ رہے ہیں جو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے تواتر کے ساتھ ملک بھر میں جاری ہیں

ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ پہلے یہاں معمول کے مطابق گاڑیاں کھڑی تھیں پھر ایک گاڑی تیزی سے آئی اس میں سے ایک آدمی اترا اور گاڑی تیزی سے واپس بھی چلی گئی اور پھر اس کے دو منٹ بعد دھماکہ ہو گیا۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے حملے کے دوران مزاحمت پر ہلاک ہونے والے سیکورٹی گارڈ کے لیے ستارہ شجاعت دینے کی سفارش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ سلک بینک پاکستان کے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی ملکیت ہے۔

دوسری جانب صدر اور وزیراعظم نے دہشتگردی کی اس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ملک میں دہشتگردی کی حالیہ لہر کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ رحمان ملک کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس کے سدباب کے لیے فوراً کوشش کریں۔

اس دھماکے کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی تاہم حکام اس خودکش حملے کی کڑیاں بھی دہشتگردی کے انہی واقعات سے جوڑ رہے ہیں جو دو مئی کو ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے تواتر کے ساتھ ملک بھر کے مختلف شہروں میں جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے القاعدہ اور ان کے حامی طالبان ہیں۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس