اسلام آباد سے سابق افغان گورنر کا اِغوا | حالات حاضرہ | DW | 13.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلام آباد سے سابق افغان گورنر کا اِغوا

افغان حکومت نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جمعے کے روز اسلام آباد سے اغوا کیے جانے والے سابق حکومتی اہل کار کر آزاد کرانے کے لیے کارروائی کرے۔

فضل اللہ واحدی افغانستان کے مغربی صوبے ہرات کے سابق گورنر تھے۔ افغان وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ واحدی کو جمعے کی دوپہر پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے اغوا کر لیا گیا۔

اغوا کیے جانے کے محرکات اور عوامل غیر واضح ہیں، تاہم افغان حکومت نے پاکستانی حکام سے کہا ہے کہ وہ ’’تمام تر ذرائع بہ روئے کار لاتے ہوئے اغوا کرنے والوں کے گروہ کی شناخت اور فضل اللہ واحدی کی بازیابی کی کوشش کرے۔‘‘

سابق افغان صدر حامد کرزئی، جو اطلاعات کے مطابق واحدی سے قریبی تعلق رکھتے تھے، نے سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ واحدی اسلام آباد برطانیہ کا ویزا حاصل کرنے کے لیے گئے تھے۔ واضح رہے کہ برطانیہ افغانوں کو کابل میں ویزا جاری نہیں کرتا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق افغان سفارت خانے نے انہیں واحدی کے اغوا کے بارے میں آگاہ کیا ہے، اور پولیس اس واقے کی تفتیش کر رہی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کافی عرصے سے اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر طالبان عسکریت پسندوں کی معاونت کا الزام عائد کرتے رہتے ہیں۔

DW.COM