1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلام آباد سے دو مبینہ خودکش حملہ آور گرفتار

پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جمعہ کے روز اسلام آباد سے دو مبینہ خود کش حملہ آورں کو گرفتار کیا ہے۔ سکیورٹی فورس کے مطابق حملہ آورں کے نشانے پارلیمنٹ ہاوس اور شہر کے متمول علاقے میں واقع مسجد تھے۔

default

سکیورٹی فورس نے خدشہ ظاہرکیا ہےکہ دہشت گرد حملےکی منصوبہ بندی میں مزید لوگ بھی شامل ہیں، جن کی تلاش کی جا رہی ہے۔ پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے پاکستان ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے گرفتاریوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان میں سے گرفتار ایک شخص کا تعلق پاکستان کے شمال مغربی علاقے بنوں سے ہے۔ اس کا نشانہ اسلام آباد میں متمول پاکستانیوں اور مغربی باشندوں کے رہایشی علاقے F8-1 میں واقع ایک مسجد تھی۔ جبکہ دوسرے گرفتار شدہ شخص کا نشانہ ایوان بالا اور اس سے ملحقہ عمارت تھی۔

اسلام آباد پولیس کے سینئر افسر بنی امین نے بھی گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مبینہ حملہ آوروں کے پاس سے خودکش حملے کے لئے استعمال کی جانے والی جیکٹس بھی دستیاب ہویئں ہیں۔ بنی امین کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں کی منصوبہ بندی میں کئی افراد شامل ہوتے ہیں اس لئے ممکن ہےکہ ان افراد کے مزید ساتھی بھی موجود ہوں تاہم ان کی تلاش کی جا رہی ہے۔

Pakistan Polizeikontrollen und Ausnahmezustand

اسلام آباد میں سکیورٹی نہایت سخت کر دی گئی ہے

واضح رہے کہ پاکستان میں جولائی 2007 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں لال مسجد پر حکومت کی جانب سے کئے جانے والے آپریشن کے بعد سے ملک میں خودکش حملوں کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اس میں اب تک 4000 کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ییں۔

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں اس وقت سکیورٹی نہایت سخت ہے، جس کے باعث گزشتہ دو برسوں سے یہ شہر طالبان اور القاعدہ کے حملوں سے محفوظ ہے۔ اس سے پہلے ان کالعدم تنظیموں کی جانب سے شہر میں دہشت گردی کی کئی کاروائیاں کی جا چکی تھیں، جس میں اکتوبر 2009 میں اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے آفس پر کیا جانے والا حملہ بھی شامل ہے۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: امتیاز احمد