اسلام آباد دھرنے کے خلاف پولیس آپریشن جاری | حالات حاضرہ | DW | 25.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلام آباد دھرنے کے خلاف پولیس آپریشن جاری

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ تین ہفتوں سے جاری دھرنے کے خاتمے کے لیے پولیس نے اپنی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اس موقع پر مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی جاری ہیں۔

اسلام آباد شہر کے ایک اہم داخلی راستے فیض آباد میں گزشتہ بیس روز سے ایک مذہبی جماعت نے دھرنا دے رکھا تھا۔ حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مقامی انتظامیہ نے اس دھرنے کے شرکاء کو پرامن انداز سے منتشر ہونے کی ہدایات دی تھیں اور خبردار کیا تھا کہ بہ صورت دیگر ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔

’تحریک لبیک‘ کو مزید مہلت دے دی گئی

' دھرنا ختم کرنے کا عدالتی حکم، مذہبی تنظیموں کا انکار ‘

اسلام آباد دھرنا: حکومتی طاقت کے عدم استعمال کے اسباب

گزشتہ نصف شب کو پوری ہونے والی اس ڈیڈلائن نظرانداز کر دیے جانے کے بعد ہفتے کی صبح پولیس نے مذہبی جماعت تحریک لبیک یارسول سے وابستہ مظاہرین کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا۔

ایک سینیئر پولیس افسر عصمت اللہ جونیجو نے بتایا کہ اس دھرنے میں قریب تین سو افراد شامل تھے، جن کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسوگیس کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی میں شریک پولیس اہکاروں کو ہتھیار نہیں دیے گئے ہیں اور وہ فقط آنسوگیس یا پانی کی تیز دھاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مزاحمت کرنے والے درجنوں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے، جب کہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ اور پولیس کے لاٹھی چارج کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں، جنہیں مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

پاکستانی حکومت کی جانب سے اس دھرنے کے خاتمے کے لیے متعدد مرتبہ کوشش کی گئی، تاہم یہ بات چیت کسی نتیجے پر نہ پہنچی۔ یہ مظاہرین ایک پارلیمانی بل سے پیغمبراسلام سے متعلق ایک حوالہ حذف کرنے پر وزیرقانون زاہد حامد کے استعفے کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے تھے۔

زاہد حامد نے پارلیمانی بل میں پیغمبر اسلام کی بابت ’آخری رسول‘ کے الفاظ نہ لکھنے پر معذرت کی تھی اور کہا تھا کہ ایسا فقط ’دفتری غلطی‘ کے باعث ہوا، جسے بعد میں درست کر دیا گیا۔

تاہم اس دھرنے کے رہنماؤں نے یہ معذرت قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے زاہد حامد کے استعفے تک دھرنا جاری رکھنے کے اعلان کیا تھا۔ ہفتے کے روز یہ پولیس کارروائی عدالتی احکامات کے تناظر میں کی گئی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ دھرنے کی وجہ سے اسلام آباد کے شہریوں کے معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔

DW.COM