1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلام آباد دھرنا: حکومتی طاقت کے عدم استعمال کے اسباب

اسلام آباد اور راولپنڈی کے کئی علاقے ایک مذہبی جماعت کے احتجاجی دھرنے کے باعث مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں لیکن حکومت نے مظاہرین کو ابھی تک نہیں ہٹایا۔ کئی ناقدین کی رائے میں ’حکومت طاقت استعمال کرنے سے ڈر رہی ہے‘۔

اسلام آباد میں آٹھ دن تک احتجاجی دھرنے کے بعد آج جب وفاقی حکومت جاگی تو لوگوں کو حیرت ہوئی۔ حکومت نے دبے لفظوں میں دھرنے کے شرکاء کو خبردار کیا ہے کہ اگر یہ احتجاج مذاکرات کے ذریعے ختم نہ کیا گیا، تو پھر طاقت استعمال کی جائے گی۔
پاکستان کی تحریکِ لیبک نے اسلام آباد کی ایک ایسی مرکزی شاہراہ پر کئی دنوں سے دھرنا دے رکھا ہے، جو دارالحکومت کو راولپنڈی سے ملاتی ہے۔ اس دھرنے کی وجہ سے طالب علموں، مریضوں اور مزدوروں سمیت جڑواں شہروں کے لاکھوں رہائشیوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ عوام کئی کئی گھنٹوں تک ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں۔
حکومت کی طرف سے ان مظاہرین کو نہ ہٹانے پر عوام بہت ناخوش ہیں اور عام شہری اپنے غصے کا اظہار فیس بک اور ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا پر بھی کر رہے ہیں۔ معروف سماجی کارکن جبران ناصر نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا، ’’جناب چیف جسٹس صاحب، آپ نے اسلام آباد کے محاصرے کا نوٹس نہیں لیا۔ لوگ ایک ہفتے سے پریشانی کا شکار ہیں۔ سیاست دانوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ دہشت گردوں کی شان میں قصیدے پڑھے جا رہے ہیں اور حکومت ان سے نمٹنے میں نا کام ہو چکی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ آپ کورٹ کی اس تضحیک کا نوٹس لیں گے۔‘‘

تحریکِ لبیک پاکستان کا اسلام آباد دھرنا، نتیجہ کیا نکلے گا؟

اسلام آباد،’ زاہد حامد کے استعفے تک مظاہرہ جاری رہے گا‘

راستے بند، کنٹینرز کہاں سے آئے اور نقصان کس کا ہوا؟

ایک اور صارف نے لکھا، ’’دو ڈھائی ہزار مولویوں نے اسلام آباد کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔‘‘ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ عوام میں بڑھتے ہوئے عدم اطمینان اور غصے کے پیش نظر ہی وفاقی وزراء کو آج منگل چودہ نومبر کو پریس کانفرنس کر کے اس مسئلے پر بات چیت کرنا پڑی۔
وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ امور نے اس موقع پر دھرنا دینے والوں کو خبردار کیا کہ ان کے ’غیر آئینی اور غیر قانونی مطالبات‘ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا، تو چند سو لوگوں کو ہٹانا حکومت کے لیے کوئی بڑی بات نہیں ہو گی۔

Pakistan Islamabad - Security während Islamisten gegen Minister Protestieren (picture-alliance/AP Photo/B. K. Bangash)

’حکومت کے لیے چند سو افراد کو ہٹانا کوئی مسئلہ نہیں‘


لیکن تجزیہ نگاروں اور غیر حکومتی سیاست دانوں کا خیال ہے کہ حکومت اس خوف میں مبتلا ہے کہ کہیں طاقت کے استعمال سے لاہور کے ماڈل ٹاؤن جیسا کوئی سانحہ پیش نہ آئے۔
معروف سیاسی مبصر سہیل وڑائچ نے اس مسئلے پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’پاکستان میں مذہب ایک بہت حساس مسئلہ ہے اور جب سے لال مسجد کا واقعہ ہوا ہے، تمام حکومتیں مذہبی جماعتوں کے احتجاج کو منتشر کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہتی ہیں۔ اب نون لیگ کی حکومت جو ایکشن لینے سے ڈر رہی ہے، اس کی ایک وجہ لاہور میں ماڈل ٹاؤن کے سانحے کی مثال بھی ہے۔ حکومت کو ڈر ہے کہ طاقت کے استعمال سے کہیں معاملات مزید بگڑ نہ جائیں اور دوبارہ کوئی سانحہ رونما نہ ہو۔ اسی لیے وفاقی حکومت تحمل سے کام لے رہی ہے، جو ایک مثبت بات بھی ہے۔‘‘

نواز شریف حکومت کا مستقبل: دھرنے کی منسوخی کس کی کامیابی؟

کل دھرنا نہیں ہو گا، یوم تشکر منائیں گے، عمران خان

سانحہ ماڈل ٹاؤن: آرمی چیف انصاف دلوائیں، طاہر القادری

ایک سوال کے جواب میں سہیل وڑائچ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’جب پی ٹی آئی نے دھرنا دیا تھا، تو یہ تاثر تھا کہ ان کے ساتھ نظر نہ آنے والی قوتیں ہیں۔ اور اب بھی یہ تاثر ہے کہ ایسی ہی قوتیں اس دھرنے کے پیچھے بھی ہیں۔ لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ قوتیں دھرنے کے دوران کسی گڑ بڑ کی صورت میں کوئی فائدہ اٹھا سکیں گی کیونکہ بین الاقوامی حالات ایسے نہیں کہ اس طرح کے کوئی کام کیے جا سکیں۔‘‘

معروف سیاست دان سینیٹر عثمان کاکڑ بھی سہیل وڑائچ کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ حکومت مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کرنے سے ڈر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’بات یہ ہے کہ کچھ قوتیں قبل از وقت جنرل الیکشن کرانا چاہتی ہیں اور ان کا جواز تلاش کر رہی ہیں۔ اگر حکومت نے ان مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی، تو یہ انتشار پر اتر آئیں گے۔ یہ انتشار قبل از وقت عام انتخابات کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے حکومت صبر و تحمل سے کام لے رہی ہے۔‘‘

سینیٹر کاکڑ نے بھی کہا کہ اس بات میں ’کوئی شک نہیں کہ ان دھرنے والوں کو کسی کی تھپکی ضرور ہے، ورنہ حکومت کے لیے ان چند سو افراد کو ہٹانا کوئی مسئلہ نہیں‘۔

DW.COM