1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسلام آباد: خواجہ سرا اپنے لیے مسجد تعمیر کر رہے ہیں

اسلام آباد کے ایک نواحی علاقے میں خواجہ سراؤں نے اپنی ایک جامعہ مسجد تعمیر کرنا شروع کردی ہے، جس میں کم از کم ایک ہزار افراد کے لیے نماز پڑھنے کی گنجائش ہو گی۔ اس مسجد میں ایک مدرسہ بھی قائم کیا جائے گا۔

ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اس مسجد کے روح رواں ندیم کشش نے بتایا،’’ہمارے علاقے نور پور شاہاں اور محلہ ججال میں تقریباً ایک سو پچاس گھر ہیں لیکن یہاں کوئی بھی مسجد نہیں ہے۔ لہذا چھ مہینے پہلے ہم نے اِس مسجد کو بنانے کا فیصلہ کیا۔ ہمارا علاقہ کچی آبادی پر مشتمل ہے۔ اہل محلہ نے ایک کنال کی زمین کی جگہ اس مقصد کے لیے مختص کی۔‘‘

ندیم کشش کے بقول مسجد کا نام 'رحمت العالمین‘ رکھا جائے گا اور تعمیری کام پر اب تک تقریباً سات لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں،’’ہماری برادری کے لوگوں نے مسجد کی تعمیر کے لیے جب چندہ لینا شروع کیا تو انہیں پولیس نے تنگ کیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ یہ مسجد رجسڑڈ نہیں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارا پورا محلہ ہی رجسڑڈ نہیں ہے۔ اسلام آباد میں کئی ایسے علاقے ہیں جو رجسڑڈ نہیں ہیں یا وہ غیر قانونی آبادیاں ہیں لیکن مسجدیں وہاں موجود ہیں۔‘‘


اس مسجد کو بنانے کی ضرورت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ندیم نے کہا،’’ اسلام آباد میں تقریباً 2700 خواجہ سرا رہتے ہیں۔ مسجد نہ ہونے کی وجہ سے بیچارے خواجہ سرا چھپ چھپ کر نماز پڑھتے ہیں۔ جمعہ کے دن مرد خواجہ سرا اپنے سر کو عمامے سے ڈھک لیتے ہیں اور منہ کو بھی رومال سے ڈھانپ لیتے ہیں تا کہ پہچانے نہ جائیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ قرآن پڑھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے لیکن نہ تو محلے کا کوئی مولوی ہمیں قرآن پڑھاتا ہے اور نہ گلی محلے میں ناظرہ پڑھانے والی خواتین ہمیں قرآن پڑھانے پر راضی ہوتی ہیں،’’میں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ اہل تشیع خواجہ سراؤں کو نماز پڑھنے یا مجلس میں جانے سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ امام بری کے ساتھ ہی ایک امام بارگاہ ہے اور اہل تشیع خواجہ سرا وہاں جاتے ہیں۔ اہل تشیع افراد ان کو قبول کرتے ہیں لیکن سنی خواجہ سراؤں کو مسجدوں میں بہت پریشانی ہوتی ہے۔ لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور انہیں عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔‘‘
اس سوال پر کہ کیا اِس مسجد میں آپ آسانی سے نماز پڑھ سکیں گے، ندیم نے کہا،’’اس محلے کے لوگ ہمیں جانتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہاں ہمیں نماز پڑھنے سے کوئی نہیں روکے گا۔ یہاں کسی کے آنے پر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔ حالانکہ یہ مسجد ہم بنارہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ صرف ہمارے لیے ہی ہو گی۔ ہم یہاں کسی کو آنے سے نہیں روکیں گے۔‘‘
فرقہ واریت کا ناسور ملک کے سماجی ڈھانچے کے رگ وپے میں سرائیت کر گیا ہے، کیا یہ مسجد بھی کسی خاص فرقے کے لیے ہو گی؟ اس سوال پر ندیم کشش نے کہا، ’’ہماری مسجد پر نہ مسلکِ دیوبند لکھا ہوگا اور نہ ہی اِس کا تعلق بریلوی مسلک سے ہو گا۔ ہمارے خیال میں مسجد اللہ کا گھر ہے اور اِس میں کوئی فرقہ واریت نہیں ہونی چاہیے۔ ہماری برادری میں تمام مذاہب اور مسالک کے لوگ ہوتے ہیں اور ہم اُن میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔‘‘


ندیم کا کہنا تھا کہ سماج نے خواجہ سراؤں کو بالکل لاوارث چھوڑ دیا ہے،’’ہمارے لیے ناچ گانا، بھیک مانگنا اور جسم فروشی ہی رہے گئی ہے۔ خوب صورت خواجہ سر اناچ گانے میں چلے جاتے ہیں جب کہ زیادہ عمر کے خواجہ سرا بھیک مانگ کر گزارا کرتے ہیں اور جب مر جاتے ہیں تو کوئی مولوی ہماری میت کا مسجد میں اعلان کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے آتا ہے۔ پھر سماج یہ باتیں کرتا ہے کہ کسی نے خواجہ سراؤں کا جنازہ نہیں دیکھا۔‘‘
اس سوال پر کہ اس مسجد میں امام اور موذن کہاں سے آئیں گے، ندیم کشش نے بتایا،’’ہمارے خیال میں ہمیں آسانی سے موذن اور امام مل جائیں گے۔ ابھی بھی مولوی حضرات یہاں کے چکر لگا رہے ہیں لیکن ہم نے اُن پر یہ واضح کر دیا ہے کہ ہم مسجد میں کوئی فرقہ واریت نہیں چاہتے۔ اگر نہیں ملے تو اب ہماری برادری میں بھی دین سے آگاہ افراد ہیں، جن کا ہم یہاں تقرر کریں گے۔ ہمارے ایک ساتھی خواجہ غریب خسرو اب تبلیغی جماعت میں ہیں۔ ان کی داڑھی بھی ہے اور دین کے مسائل سے بھی وہ واقف ہیں۔ وہ یہاں بچوں کو ناظرہ پڑھائیں گے اور مجھے یقین ہے کہ اہل محلہ اپنے بچوں کو مسجد میں بھیجیں گے۔‘‘