1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلام آباد: ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کی کمیٹی کا دو روزہ اجلاس

ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کی کمیٹی برائے معاشی امور اور پائیدار ترقی کا اجلاس آج سے اسلام آباد میں سے شروع ہو گیا ہے۔ اس میں چین، پاکستان، ایران، ترکی، انڈونیشیا، اور کمبوڈیا سمیت انیس ایشیائی ممالک شرکت کر رہے ہیں۔

اس دو روزہ اجلاس میں انیس ممالک کے تریسٹھ وفود شرکت کر رہے ہیں، اس کی میزبانی پاکستان جب کہ صدارت کمبوڈیا کر رہا ہے۔ اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے کہا، ’’ایشیا کا مستقبل اس کے عوام کے ہاتھ میں ہے۔ مغرب کی یہ تنقید کہ ایشیا کا انضمام مختلف ثقافتی، سماجی اور مذہبی عوامل کی وجہ سے ممکن نہیں، درست نہیں ہے کیونکہ ہمارا یہ کہنا ہے کہ ایشیا کی طاقت کثیرالجہتی ہے اور مختلف گروپوں سے ہی اتحاد ابھرتا ہے۔‘‘

چیئرمین سینیٹ نے کہا، ’’مغرب نے پاکستان میں آمریتوں کی سیاسی و معاشی طور پر مدد کی اور سیاسی کارکنان کے خلاف کے ہونے والی غیر قانونی کارروائیوں پر خاموشی اختیار کی۔‘‘
انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ’انسانی حقوق کے علمبردار فلسطین اور کشمیر میں ہونے والی ظلم و زیادتیوں پر خاموش ہیں۔‘‘

رضا ربانی نے ایشیائی ممالک پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھیں اور ایشیائی پارلیمان کے قیام کے حصول کو ممکن بنائیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایشیائی ممالک میں سات یا آٹھ علاقائی گروپ بنائیں جائیں جو ایشین پارلیمنٹ کے قیام کے لئے طریقہ کار پر کام کریں اور یہ گروپس اپنی رپورٹ ایشین اسمبلی کے آنے والے اجلاس میں پیش کریں۔
کموڈیاکے سینیٹر Chhit Kim Yeat نے کہا، ’’ایشیا کے انضمام کہیں سے تو شروع ہونا ہے، ہو سکتا ہے کہ یہ انضمام ایشین انرجی مارکیٹ سے ہو۔ اس موقع پر سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ طاقت کا توازن مغرب سے ایشیا کی طرف ہو رہا ہے اور مستقبل ایشیا کا ہے۔ انہوں نے کہا ایشیا سے متعلق فیصلے ایشیا کے ممالک میں ہونے چاہییں نہ کہ مغرب اور امریکا میں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کہا، ’’ایشیا کے لئے عالمی معاشی، ثقافتی اور ٹیکنالوجی کا مرکز بننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان رکاوٹوں کو دور کیا جائے، جو کروڑوں عوام کی خوشحالی و بہبود کی راہ میں حائل ہیں۔ ایشیائی پارلیمانی اسمبلی جیسے فورم سلامتی، انسانی حقوق، توانائی، خوراک، معاشی نمو اور ماحولیات سمیت کئی مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزیدکہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے، جو جوہری توانائی سے متعلق اعلیٰ سیفٹی معیار رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں کسی بھی طرح کی جوہر ی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونا نہیں چاہتا۔ سینیٹر شیریں رحمان نے کہا،’’منتشر دنیا کے لئے مستقبل قریب میں یہ بہت مشکل ہوگا کہ وہ عصر حاضر کے مسائل سے نبرد آزما ہوسکیں۔ متحد ہوئے بغیر ممالک ماحولیاتی آلودگی جیسے مسائل کو حل نہیں کر سکیں گے۔‘‘