1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلام آباد انتخابات: ’عملاﹰ بیوروکریسی کا ہی راج رہے گا‘

اسلام آباد میں ہونے والے تاریخی بلدیاتی انتخابات میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد غیر حتمی نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ پچاس یونین کونسلوں سے موصول ہونے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق دس امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔

ان بلامقابلہ منتخب ہونیوالے امیدواروں میں سے اکثریت اقلیتی کونسلر کی نشستوں پر انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ پیر کے روز پولنگ اپنے مقررہ وقت صبح سات بجے سے شروع ہ وکر بغیر کسی وقفے کے شام ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہی۔ اس دوران مختلف پولنگ اسٹیشنوں سے چھوٹے موٹے لڑائی جھگڑوں کے واقعات کی اطلاعات آتی رہیں لیکن مجموعی طور پر یہ انتخابات پرامن رہے۔

تحریک انصاف کی جانب سے پولنگ کے دن مقامی تعطیل نہ ہونے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ تحریک انصاف نے پولنگ کے وقت میں دو گھنٹے اضافہ کرنے کا تحریری مطالبہ بھی کیا تاہم الیکشن کمشن نے تحریک انصاف کا مطالبہ یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ پولنگ کے لئے ساڑھے دس گھنٹے کا وقت دیا گیا، جو کافی تھا۔

ادھر الیکشن کمیشن کو انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق تیس شکایات موصول ہوئیں۔ الیکشن کمیشن حکام کے مطابق یہ معمولی نوعیت کی شکایات تھیں اور ان کے حل کے لئے موقع پر احکامات جاری کیے گئے۔ انتخابی بے ضابطگی کی ایک شکایات مسلم لیگ (ن) کے سینئیر رہنما اور یونین کونسل نمبر تیس سے چئیرمین کے امیدوار سید ظفر علی شاہ کے متعلق کی گئی۔ شکایت گزاروں کے مطابق سید ظفر علی شاہ نے شناختی کارڈ دیکھانے کی لازمی شرط پوری کیے بغیراپنا ووٹ ڈالا۔

تاہم جب اس متعلق مؤقف جاننے کے لئے ڈی ڈبلیو نے ظفرعلی شاہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے ان الزامات کو بے بنیاد اور لغو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بغیر شناختی کارڈ کے کوئی ووٹ ڈال لے اور وہ بھی ایسے میں، جب میڈیا اور دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندگان بھی موجود ہوں۔ یہ میرے خلاف الیکشن ہارنے کے خوف سے پریشان عناصر پراپیگنڈہ کر رہے ہیں۔"

سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ وہ ایک قانون دان ہیں اور قانوں شکنی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس کے علاوہ متعدد افراد کی جانب سے ان کو آگاہ کیے بغیر ان کا ووٹ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیے جانے کی بھی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون فور کے ایک رہائشی محمد زبیر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ "میں پینتیس سال سے اس سیکٹر کے ایک سرکاری گھر میں رہائش پذیر ہوں، کئی سالوں سے اسی پتے پر اپنا ووٹ ڈال رہا ہوں لیکن اس مرتبہ میرا ووٹ کئی کلومیٹر دور سیکٹر ایف الیون منتقل کر دیا گیا، جس کا مجھے آج اس وقت پتہ چلا جب میں ووٹ ڈالنے کے لئے پولنگ اسٹیشن پہنچا۔"

اسی سیکٹر کے ایک اور رہائشی عمر اعوان کا بھی کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ کا ووٹ بھی اسلام آباد کے ایک مضافاتی علاقے بھیکہ سیداں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنا ووٹ نہیں ڈال سکیں۔

اسلام آباد کی بعض یونین کونسلوں سے ایسی شکایات بھی سامنے آئیں، جن کے مطابق الیکشن کمیشن نے بعض پولنگ اسٹیشوں پر انگوٹھوں کے نشانات ثبت کرنے کے لئے سیاہی کے خشک پیڈ بھجوا دیے۔ الیکشن کمیشن حکام نے اس غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کرائی جائیں گی کہ یہ خشک سیاہی کس نے پولنگ اسٹیشنوں پر بجھجوائی ہے؟

دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد خوش آئند ہے تاہم ان سے لوگوں کے مسائل کے حل کے لئے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہیے۔

تجزیہ کار سرور باری کے مطابق، "اسلام آباد میں اب بھی عملاﹰ بیورو کریسی کا ہی راج ہے کیونکہ وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) نے بہت سے بلکہ اصل اختیارات اپنے پاس ہی رکھے ہیں۔ میونسپل کارپوریشن کو نہ ہونے کے برابر ترقیاتی فنڈ ملے گا کیونکہ سی ڈی اے نے ترقیاتی کاموں کو بجٹ اپنے پاس رکھا ہے۔"

خیال رہے کہ اسلام آباد قومی اسمبلی کے دو حلقوں پر مشتمل ہے جس میں سے ایک تحریک انصاف جبکہ دوسرا مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے۔ اسی طرح شہری علاقوں میں پی ٹی آئی کے حامیوں کی تعداد زیادہ جبکہ دیہی علاقوں میں مسلم لیگ (ن) کا زور زیادہ ہے۔ اسی طرح شہر کی مئیر شپ کم ازکم چھبیس یونین کونسلوں میں فتح حآصل کرنے والی جماعت کے حصے میں آئے گی۔