1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات: ’مرد عورت کو پیٹ سکتا ہے‘

پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل، جس نے کچھ عرصہ قبل پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ قانون برائے تحفظ خواتین کی شد و مد سے مخالفت کی تھی، اب خواتین کے تحفظ کے لیے خود اپنی سفارشات لے کر سامنے آ گئی ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ مجوزہ سفارشات جلد ہی حکومت کو بھجوا دی جائیں گی۔ ان سفارشات میں کہا گیا ہے کہ مردکو عورت کی معمولی پٹائی کرنے کی اجازت ہونی چاہیے بشرطیکہ وہ اس کی حکم عدولی کرے، اس کی خواہش کے مطابق لباس نہ پہنے، بغیر کسی وجہ کے جنسی اختلاط سے انکار کرے یا پھر اختلاط اور ماہواری کے بعد غسل نہ کرے۔

اپنی سفارشات میں کونسل نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ مرد کی طرف سے عورت کی پٹائی اس صورت میں بھی کی جا سکتی ہے کہ عورت حجاب کا استعمال نہ کرے، اجنبیوں سے میل ملاپ رکھے، اتنی اونچی آواز میں بات کرے کہ اس کی آواز اجنبیوں کو بھی سنائی دے یا پھر وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کی مالی مدد کرے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کا دعوی ٰ ہے کہ 163صفحات پر مشتمل یہ سفارشات خواتین پر کئی طرح کی پابندیاں لگانے کی تجویز دیتی ہیں۔ ان تجاویز کے مطابق پانچویں جماعت کے بعد مخلوط تعلیم پر پابندی ہونی چاہیے، خواتین کو جنگ میں لڑائی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، خواتین کو بیرونی مندوبین یا مہانوں کو خوش آمدید کہنے کی اجازت بھی نہیں ہونی چاہیے اور نامحرم سے میل ملاپ اور تفریحی مقامات پر بغیر کسی محرم کے جانے پر بھی پابندی ہونی چاہیے۔

کونسل کی سفارشات کے مطابق حمل ٹھہرنے کے 120 دن کے بعد اسقاط حمل کو قتل قرار دیا جانا چاہیے۔ خواتین نرسوں کو مرد مریضوں کی تیمارداری کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور اشتہارات کی مارکیٹ میں بھی خواتین کے کام کرنے پر پابندی ہونی چاہیے۔ ان سفارشات کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی لیکن ذرائع ابلاغ میں ان کے مندرجات چھپنے کے بعد ان پر بحث شروع ہو گئی ہے اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی انیس ہارون کا کہنا ہے کہ مولوی کون ہوتا ہے کہ وہ عورتوں کو بتائے کہ کس طرح کا لباس انہیں پہننا چاہیے۔ ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے انیس ہارون نے کہا، ’’خواتین کی تنظیموں کا ایک اجلاس اسلام آباد میں ہو رہا ہے، جس میں ان تنظیموں کی سرکردہ خواتین حصہ لے رہی ہیں۔ ہم ان تجاویز کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ ان تجاویز کے حوالے سے خواتین سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور ان تجاویز کی سفارشات سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں، جنہیں ویسے بھی پاکستانی عوام رد کرتے ہیں۔ ملک میں قانون سازی کے لیے پارلیمان موجود ہے۔ ایک وقت میں اس ملک کی ایک بہت بڑی مذہبی جماعت نے محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی تھی۔ اب مذہبی حلقے کیسے خواتین پر مختلف پابندیا ں لگا سکتے ہیں۔‘‘

دوسری طرف خواتین سیاست دان بھی ان تجاویز پر سیخ پا ہیں۔ پنجاب اسمبلی کی رکن عظمیٰ بخاری نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’کیا مولانا شیرانی گھر گھر جا کر دیکھیں گے کہ کون سا مرد اپنی بیوی کی معمولی پٹائی کر رہا ہے اور کون سا شوہر غیر معمولی مار پیٹ کا مرتکب ہو رہا ہے۔ مار پیٹ تشدد کے زمرے میں آتی ہے اور اسلام میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ مولوی اسلام کی غلط تشریح کر رہے ہیں۔ کونسل والوں نے سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا سے پاس ہونے والے قوانین کی مخالفت کی ہے، یہ قوانین خواتین کے حقوق سے متعلق ہیں۔ لیکن اس ملک کی عورت اتنی بے بس نہیں کہ وہ اپنے حق کے لیے لڑ نہ سکے۔ ہم ان تجاویز اور سفارشات کے خلاف ہر ممکنہ حد تک جائیں گے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اس سے پہلے بھی متنازعہ تجاویز دیتی رہی ہے۔ ’’ان کا ڈی این اے ٹیسٹ پر موقف بھی متنازعہ تھا۔ نہ جانے یہ پاکستان کو کون سے دور میں لے کر جا رہے ہیں۔ یہ اکیسویں صدی ہے اور ملک کو جدت پسندی کی طرف بڑھنا چاہیے۔ رجعت پسندی ملک کے مفاد میں نہیں۔‘‘

DW.COM