1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلامی نظریاتی کونسل نے تحفظ نسواں کے نئے قوانین رد کر دیے

پاکستانی قوانین کے اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے قائم کردہ آئینی ادارے اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) نے صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں تحفظ نسواں کے لیے نئے قوانین کو مسترد کر دیا ہے۔

سی آئی آئی کے سربراہ اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ خواتین کے تحفظ کے یہ دونوں ایکٹ اسلامی قوانین اور ملکی آئین سے متصادم ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا دو روزہ اجلاس جمعرات کی شام اسلام آباد میں اپنے اختتام کو پہنچا۔

اس اجلاس میں اراکین نے پنجاب اسمبلی کی طرف سے حال ہی میں منظور کردہ تحفظ نسواں ایکٹ اور خیبر پختونخوا کے مجوزہ بل کے مسودے کا جائزہ لیا۔ کونسل کے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا شیرانی نے کہا کہ ان قوانین کے مسودوں کی تیاری میں خاندان کے تحفظ سے متعلق اسلامی تعلیمات اور آئین کی شقوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

مولانا شیرانی نے کہا، ’’اس قانون کا مجموعی خلاصہ جو ہم سمجھتے ہیں، وہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے رشتوں کا تعلق بھلا دیا جائے۔ دوسرا یہ کہ خواتین کو گھر سے بے گھر کیا جائے اور انہیں اپنے گھروں سے نکال دیا جائے، جیسے ہمارے ہاں اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد ہیں، اور پھر ان خواتین کواپنی منشا کے مطابق کام پر لگا دیا جائے۔‘‘

مولانا شیرانی نے مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس جماعت کے ہر دور حکومت میں اسلام سے متصادم قانون سازی ہوئی۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری تجویز یہ ہے کہ پنجاب اور کے پی کے کی حکومتیں قانون کا ایسا مسودہ بنائیں، جو آئین کے آرٹیکل اکتیس اور اڑتیس کے خلاف نہ ہو، جو خاندان کے تحفظ سے متعلق ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی آئین کے آرٹیکل پانچ کے تحت بھی ملک میں ایسی قانون سازی نہیں ہو سکتی، جو قرآن اور سنت کی تعلیمات کے خلاف ہو۔ ‘‘

اس سے ایک روز قبل مولانا شیرانی نے کہا تھا کہ ملکی آئین سے متصادم قانون سازی کرنے پر پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے ارکان کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی جائے، جو سنگین غداری سے متعلق ہے۔

پنجاب میں خواتیں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے نئے ایکٹ کے تحت تشدد کی شکار خواتین کی شکایت پر شوہر کو دو روز تک کے لیے گھر سے بے دخل کیا جا سکتا ہے اور اسے متاثرہ خاتون سے دور رہنے کا پابند بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ملزم شوہر کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے اسے جی پی آر ایس کڑا بھی پہنایا جا سکتا ہے۔

صوبائی اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کیے جانے والے اس قانون پر مذہبی حلقوں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تاہم پنجاب سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی اور نون لیگ کی رہنما حمیدہ وحیدالدین کا کہنا ہے کہ اس قانون سے متعلق تمام تر خدشات مفروضوں کی بنیاد پر ہیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نےکہا، ’’میں کہتی ہوں کہ آپ اس قانون کو چلنے دیں، پھر دیکھیں کہ اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف اور صرف خواتین کو تشدد سے بچانا ہے، خواہ وہ تشدد ان کے شوہر کریں یا کوئی اور رشتہ دار۔ اس کے علاوہ جو جی پی آر ایس کڑا ہے، وہ بھی صرف عادی مجرموں کو ہی پہنایا جائے گا۔ یہ نہیں کہ وہ ہر ناراض شوہر کو پہنا دیا جائے گا۔‘‘

نون لیگ کی اس رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ قانون کے مطابق کسی قسم کی پولیس کارروائی سے قبل ان الزامات کی بنیاد پر دی گئی درخواست پہلے ڈسٹرکٹ ویمن پروٹیکشن کمیٹی کے پاس جائے گی، جو ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس کو کارروائی کی سفارش کر سکتی ہے۔

ادھر اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین شیرانی کا کہنا ہے کہ پنجاب اورکے پی کے کی حکومتیں تحفظ خواتین سے متعلق قوانین کے مسودے کونسل کو بھجوائیں تاکہ ان پر تفصیلی غور اور نظرثانی کے بعد ان کی منظوری دی جا سکے۔

DW.COM