1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلامی عسکریت پسند تنظیم حماس پی ایل او میں شمولیت پر آمادہ

جمعرات کو قاہرہ میں مختلف فلسطینی دھڑوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد عسکریت پسند تنظیم حماس نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن میں شمولیت کا عندیہ دیا ہے۔

default

فلسطینی صدر محمود عباس

مصری دارالحکومت میں فلسطینی صدر محمود عباس کی زیر صدارت اجلاس میں حماس کے سربراہ خالد مشعل سمیت مختلف دھڑوں کے رہنما موجود تھے۔ مذاکرات کے اختتام پر ایک کمیٹی قائم کی گئی جو حماس اور ایک اور عسکریت پسند گروپ اسلامک جہاد کی پی ایل او میں شمولیت کی تیاریاں کرے گی۔

خالد مشعل نے اے ایف پی کو بتایا، ’’یہ تمام فلسطینی تحریکوں کی پی ایل او میں شمولیت کی جانب نیا سفر ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ صدر محمود عباس کے ساتھ مذاکرات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئے جس میں مصر کے انٹیلی جنس سربراہ مراد موافی بھی شریک تھے۔

ایک آزاد فلسطینی رکن پارلیمان مصطفٰی برغوتی نے کہا کہ اجلاس میں حماس اور اسلامک جہاد کے ساتھ ساتھ آزاد مندوبین کی شرکت ایک تاریخی واقعہ تھی۔

Palästinensische Präsidentenwahl - Mustafa Barguti

آزاد فلسطینی رکن پارلیمان مصطفٰی برغوتی نے اجلاس میں حماس اور اسلامک جہاد کے علاوہ آزاد اراکین کی شرکت کو تاریخی واقعہ قرار دیا ہے

اے ایف پی کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے کہا، ’’پہلی بار تمام سیاسی اور دانشوارانہ دھاروں سے تعلق رکھنے والی قیادت کا متفقہ اجلاس ہوا۔‘‘

حماس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی گروپوں نے ایک انتخابی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ہر فلسطینی دھڑے کے اراکین شامل ہوں گے۔ اس کمیشن کو پی ایل او کے اندر انتخابات کا کام سونپا گیا ہے۔

کمیشن کے سربراہ فلسطینی قومی کونسل کے اسپیکر سلیم زانون ہوں گے اور اس کا اجلاس آئندہ ماہ اردن کے دارالحکومت میں منعقد ہو گا۔

اس سے قبل جمعرات ہی کو صدر عباس نے ایک مختلف نو رکنی پینل کے قیام کی دستاویز پر دستخط کیے تھے جس میں فلسطین کے صدارتی اور قانون ساز انتخابات کا راستہ وضع کیا گیا تھا۔

Khaled Mashaal

حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل

حماس اور صدر عباس کی جماعت فتح کے درمیان تین برسوں سے رقابت چلی آ رہی ہے۔ سن 2006ء میں حماس نے مختصر سی خانہ جنگی کے بعد غزہ پٹی کا کنٹرول سنبھال لیا تھا جس کے بعد فتح جماعت کا غلبہ غرب اردن میں رہ گیا تھا۔

حماس اب تک اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کرنے یا تشدد ترک کرنے سے انکار کرتی آئی ہے جبکہ پی ایل او نے یہودی ریاست کے ساتھ ایک عبوری امن کے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں۔ اس تضاد کے باعث ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ حماس کس طرح پی ایل او میں شامل ہو سکتی ہے۔

ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ حماس کے سربراہ خالد مشعل نے صدر عباس سے کہا ہے کہ ان کا گروپ ’’اس مرحلے پر غزہ اور غرب اردن میں پر امن مزاحمت اور جنگ بندی کے حق میں ہے۔‘‘

حماس نے ماضی میں بھی اسرائیل کے ساتھ طویل المدتی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا مگر اس نے اسرائیل کو تباہ کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ایک ترجمان مارک ریگیف نے کہا کہ محمود عباس کی حماس کو قریب لانے کی کوششوں سے امن کے امکانات کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسلامی تنظیم حماس کو تسلیم نہ کریں۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عابد حسین

DW.COM