1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسلامی انتہا پسند سب سے بڑا خطرہ، ناروے کی خفیہ پولیس

ناروے کی خفیہ پولیس کے مطابق فیس بک جیسی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی اور شدت پسندانہ رنگ اختیار کرتا جا رہا اسلامی انتہا پسندی کا رجحان ابھی تک ناروے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

default

PST کی خاتون سربراہ جین کرسٹیانسن

اوسلو میں ناروے کی خفیہ پولیس PST نے ملک کو درپیش مجموعی خطرات سے متعلق اپنی تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسلامی شدت پسندی ناروے میں حکام کے لیے سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہے اور اسی لیے اس رحجان پر قابو پانا اس ادارے کی اولین ترجیح بھی ہے۔

PST کی خاتون سربراہ جین کرسٹیانسن نے اوسلو میں اپنے ادارے کی اس رپورٹ کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ناروے میں ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہے، جو اسلامی انتہا پسندی کی حمایت کرتے ہیں تاہم چند گروپوں میں ایسی حرکات اور مصروفیات کا مشاہدہ بھی کیا گیا ہے، جو سال رواں کے دوران اس حوالے سے زیادہ بڑے خطرات کا سبب بن سکتی ہیں۔

Polizei Norwegen

اوسلو میں پولیس افسران گشت کرتے ہوئے

ناروے میں سلامتی کے نگران اس قومی ادارے کے مطابق فیس بک اور ٹویٹر جیسی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے باعث دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح اسکینڈے نیویا کی اس ریاست میں بھی انتہا پسندانہ رحجانات نہ صرف زیادہ سے زیادہ خطرناک ہوتے جا رہے ہیں بلکہ مذہب کے نام پر شدت پسندی کا پرچار کرنے والوں کے لیے اپنی سوچ اور نظریات کی ترویج کے لیے ایسی ویب سائٹس کا استعمال بھی اہم سے اہم تر ہوتا جا رہا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق چونکہ کسی بھی ویب سائٹ پر کسی بھی موضوع سے متعلق بہت مختلف اور متضاد آراء کے حامل افراد بہت کم ہی کسی ایک فورم میں جمع ہوتے ہیں، اس لیے انتہا پسندوں کو اپنے نظریات کو زیادہ سے زیادہ شاندار طریقے سے پیش کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور اس عمل میں انہیں قانون کی حکمرانی کے نام پر جس مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ بھی نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔

جین کرسٹیانسن کے بقول ناروے میں چند افراد تو خاص طور پر اس لیے افغانستان، پاکستان، صومالیہ اور یمن جیسے ملکوں میں گئے کہ وہ وہاں یا تو خود مسلح مزاحمت میں حصہ لینا چاہتے تھے یا پھر عسکریت پسندی کی تربیت حاصل کرنا چاہتے تھے۔

ناروے شمالی یورپ کا ایک ایسا ملک ہے جس کے افغانستان میں فرائض انجام دینے والے مسلح فوجیوں کی تعداد 500 بنتی ہے مگر جسے خوش قسمتی سے آج تک کبھی بھی اپنی سر زمین پر مسلمان انتہا پسندوں کے کسی حملے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پچھلے برس تاہم ناروے میں پولیس نے تین ایسے مشتبہ مسلمانوں کو گرفتار کر لیا تھا، جو ناروے ہی میں رہائش پذیر تھے اور جن پر الزام تھا کہ وہ مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد کی مدد سے شمالی یورپ کے اس ملک میں حملہ کرنے کی منصوبہ بندی میں شامل رہے تھے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس