1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسلامک اسٹیٹ کے پاس تنخواہیں ادا کرنے کے پیسے نہیں

اسلامک اسٹیٹ کو اپنی نام نہاد خلافت میں نقد رقم کی کمی کا سامنا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ اب اس شدت پسند گروپ نے خطے میں اپنے جنگجوؤں کی تنخواہوں میں کٹوتی کرنا شروع کر دی ہے۔

مالی بحران کی اس صورتحال میں اسلامک اسٹیٹ نے الرقہ کے رہائشیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے بل امریکی ڈالر میں ادا کریں اور کسی بینک میں جمع کروانے کی بجائے تنظیم کو ادا کریں۔ اس صورتحال میں اس تنظیم نے مغویوں کو پانچ سو ڈالر تاوان کے عوض بھی رہا کرنا شروع کر دیا ہے۔

ابھی کچھ عرصہ قبل تک آئی ایس اپنے جنگجوؤں کو پرکشش تنخواہیں اور دیگر مراعات ادا کر رہی تھی اور بہت سے نوجوانوں کی اس تنظیم میں شمولیت کی وجہ بھی یہی تھی۔ تاہم خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اب صورتحال یہ ہے کہ آئی ایس نے اپنے حامیوں اور شدت پسندوں میں فوری توانائی کے مشروب اور چاکلیٹس وغیرہ تک تقسیم کرنا بھی بند کر دیے ہیں۔

ایک وقت میں اپنی نام نہاد خلافت میں آئی ایس اپنی کرنسی رائج کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی اور اب اسے اپنے اخراجات برداشت کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اے پی کے مطابق اس سلسلے میں اتحادیوں کی فضائی کارروائیوں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ ان کی وجہ سے اس تنظیم کا مالیاتی نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔

شامی شہر الرقہ اس تنظیم کا گڑھ ہے اور اس شہر سے نقل مکانی کرنے والوں نے اے پی کو بتایا کہ دسمبر کے مقابلے میں اب تک آئی ایس کے جنگجوؤں کی تنخواہوں میں نصف تک کی کمی ہو چکی ہو جبکہ بجلی کے بل، راشن اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بھی کمی کردی گئی ہے۔ ان افراد نے یہ بھی بتایا ہے کہ آئی ایس گزشتہ دو ہفتوں سے صرف ڈالر میں ہی ٹیکس، بجلی اور پانی کے بل وصول کر رہی ہے۔

عراق میں بھی آئی ایس کو ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ بغداد حکام کا اندازہ ہے کہ آئی ایس کو دس ملین ڈالر ماہانہ کا نقصان ہو رہا ہے کیونکہ اس تنظیم کی عراق کے مختلف علاقوں میں گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ فلوجہ میں آئی ایس اپنے ایک جنگجو کو چار سو ڈالر ماہانہ تنخواہ دیتی تھی تاہم اب انہیں کچھ بھی ادا نہیں کیا جا رہا جبکہ ایک دن میں صرف دو وقت کا ہی کھانا بھی دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی خاندان فلوجہ چھوڑنا چاہے تو اسے ایک ہزار ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں۔