1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’اسلامک اسٹیٹ‘ کے مقید جنگجُو شیعہ ملیشیا کے ہاتھوں قتل

انسانی حقوق کے ایک ادارے نے موصل کی جنگ میں شیعہ ملیشیا پر داعش کے جنگجووں کو قید میں ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ دوسری جانب عراقی وزیراعظم نے شیعہ ملیشیا کے دامن کو ماورائے قانون ہلاکتوں سے صاف قرار دیا ہے۔

عراقی حکومت کی حامی نیم فوجی دستوں پر مشتمل شیعہ ملیشیا پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اُس نے شام و عراق میں پسپا ہوتی جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے چار قیدیوں کو گولیاں مار کر  ہلاک کیا ہے۔ یہ الزام انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں عائد کیا ہے۔

امریکی شہر نیویارک میں قائم انسانی حقوق کے ادارے ایچ آر ایچ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق موصل کی لڑائی کے دوران گرفتار کیے گئے ان قیدیوں کو حکومت نواز  ہاشد الجبور ملیشیا  کے کارکنوں نے گولیاں ماری تھیں۔ انسانی حقوق کے ادارے نے ان ہلاکتوں کی تصدیق گاؤں سے تعلق رکھنے والے چند رہائشیوں  کے بیانات کی روشنی میں کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے قیدیوں کی ہلاکت کا واقع انتیس نومبر کو پیش آیا تھا۔ ان  مقید جنگجوؤں  کو موصل شہر سے ستر کلومیٹر کی دوری پر واقع ایک گاؤں شائلات الامام کے قریب ہلاک کیا گیا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ایک قیدی کو ہلاک کرتے وقت عراقی فوجی بھی موجود تھے لیکن انہوں نے شیعہ ملیشیا کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔

Iran Konferenz Hashd Al Shaabi (Mehr)

عراق میں حکومت نواز ملیشیا کے جنگجو

ہیومن رائٹس واچ کے مشرقی وسطیٰ شعبے کے نائب ڈائریکٹر لامہ فقیہہ کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت کو اپنی حامی شیعہ ملیشیا کو کنٹرول کرتے ہوئے واضح کر دینا چاہیے کو وہ ماورائے قانون ہلاکتوں کو اپنی عسکری کارروائیوں کا حصہ مت بنائے اور اُس کو قیدیوں کو ہلاک کرنے کی کھلی چھٹی نہیں دینی چاہیے۔ فقیہہ کے مطابق ایسی خلاف ورزیاں کسی بھی طور درست اور جائز قرار نہیں دی جا سکتیں۔

دوسری جانب عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے ہفتہ ، سترہ دسمبر کے روز ملکی ٹیلی وژن پر واضح کیا کہ انہیں موصل کی لڑائی کے دوران شیعہ ملیشیا ہاشد الجبور کے بارے میں کسی قسم کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ العبادی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ موصل کی لڑائی میں ملیشیا کا دامن ماورائے قانون ہلاکتوں سے صاف ہے اور اُس کا مجموعی رویہ مثبت اور انتہائی مناسب ہے۔