’اسلامک اسٹیٹ’ کے خود ساختہ صدر مقام رقہ پر فرانسیسی بمباری | حالات حاضرہ | DW | 16.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’اسلامک اسٹیٹ’ کے خود ساختہ صدر مقام رقہ پر فرانسیسی بمباری

فرانسیسی جنگی طیاروں نے شامی شہر رَقہ میں جہادی تنظیم داعش کے کئی اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب پیرس حملوں میں شریک ملزمان کی تلاش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

default

فرانسیسی جنگی طیارہ حملے کے لیے روانہ ہوتے ہوئے

پیرس حملوں کے بعد فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف سخت جوابی کارروائی کی تنبیہ کی تھی۔ ان دہشت گردانہ حملوں کے جواب میں فرانسیسی جنگی طیاروں نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب شامی رقہ میں جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ٹھکانوں پر بڑے حملے کیے۔ ان حملوں کے دوران کم از کم بیس بم گرائے گئے۔ جنگی طیاروں نے جہادیوں کے ایک تربیتی مرکز کے علاوہ اسلحے کے ایک بڑے گودام کو بھی ٹارگٹ کر کے تباہ کر دیا۔ رِقہ پر کی گئی فرانسیسی فضائی کارروائی میں ایک درجن جنگی طیارے شریک ہوئے۔

فرانسیسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق جنگی طیاروں سے حملوں میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی ایک کمانڈ پوسٹ کے علاوہ بھرتی کے ایک مرکز کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ حملے امریکی فوج کے تعاون سے کیے گئے۔ فرانسیسی جنگی طیارے ان حملوں کے لیے اردن اور متحدہ عرب امارات کے فضائی اڈوں سے روانہ ہوئے۔ بیان میں جہادیوں کی ہلاکت کے حوالے سے کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

IS Kämpfer Videostill

رقہ میں ’اسلامک اسٹیٹ‘کے جہادی مارچ کرتے ہوئے

ستمبر میں فرانس کی جانب سے شام میں جہادیوں کے ٹھکانوں پر حملے شروع کرنے کے بعد یہ سب سے بڑی جنگی کارروائی ہے۔ رقہ کو ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے شام اور عراق کے اس تنظیم کے زیر کنٹرول علاقوں کا دارالحکومت قرار دیا جاتا ہے۔ عراقی خفیہ ذرائع کے مطابق اسی شہر میں امکاناً پیرس حملوں کی پلاننگ کی گئی تھی۔ ادھر عراقی وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری نے ویانا میں کہا ہے کہ ان کے ملک کے خفیہ ادارے نے یہ معلومات شیئر کی تھیں کہ امریکا، فرانس اور ایران کو ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ممکنہ حملوں میں ٹارگٹ کرنے کی پلاننگ کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب آج دوپہر گیارہ بجے فرانس میں جمعے کے روز کیے گئے دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔ یورپی یونین نے باقی تمام رکن ریاستوں کو بھی اسی وقت مرحومین کی یاد میں خاموشی اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ سوربون یونیورسٹی میں جمع طلبا، اساتذہ اور دوسرے شہریوں کے ساتھ مل کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کریں گے۔ امریکا نے بھی آئندہ جمعرات کے روز غروبِ آفتاب تک وائٹ ہاؤس پر ملکی پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا ہے۔