1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلامک اسٹیٹ کے جنگجو میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں، اشرف غنی

افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے عسکریت پسندوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں اور یہ عسکریت پسند فرار ہو رہے ہیں۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات میں حالیہ ناکامیوں پر اشرف غنی نے زیادہ بات کرنے کی بجائے اپنے بیان میں توجہ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور کامیابی پر مرکوز کی۔

آج منگل 15 مارچ کو مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ سے ملاقات کے بعد دارالحکومت کابل میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں افغان صدر نے کہا کہ ملکی سرزمین کا کوئی حصہ اسلامک اسٹیٹ کو استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا۔

اسٹولٹن برگ کا بھی اس موقع پر کہنا تھا کہ اسلامک اسٹیٹ پوری کوشش کے باوجود عراق اور شام کی طرح افغانستان میں ویسی کامیابی حاصل نہیں کر پائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامک اسٹیٹ سے وابستہ جنگجو اپنی جان بچانے کے لیے یہاں وہاں بھاگ رہے ہیں۔

Afghanistan Präsident Ashraf Ghani eröffnet das 6. Arbeitsjahr des Parlaments in Kabul

اشرف غنی نے کہا کہ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف عسکری کارروائیاں جاری رہیں گی

اشرف غنی نے بھی کہا کہ اسلامک اسٹیٹ سے نمٹنے کے لیے امریکی اتحادی فوج سے فضائی مدد حاصل کی جاتی رہے گی، جب کہ افغانستان کی زمینی فوج ان عسکریت پسندوں کے خلاف حملے جاری رکھے گی۔

اسٹولٹن برگ نے اس موقع پر واضح کیا کہ اتحادی فوج افغانستان میں لڑاکا فوجی بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ واضح رہے کہ سن 2014ء کے اختتام پر نیٹو نے افغانستان میں اپنے جنگی فوجی مشن کا اختتام کر دیا تھا۔

افغانستان میں اب بھی کئی ہزار اتحادی فوجی موجود ہیں، تاہم ان کا کام تربیت اور معاونت تک محدود ہے، اس کے علاوہ وہ صرف ذاتی دفاع کے لیے کوئی عسکری کارروائی کرنے کے مجاز ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکا کی انسداد دہشت گردی کی فورس تاہم افغانستان میں فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جب کہ مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف اب بھی کبھی کبھی امریکی اسپیشل سروسز کے کمانڈو چھاپے مارتے ہیں۔

رواں برس جولائی میں نیٹو حکام کا اجلاس پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں افغانستان میں سن 2018ء تا 2020ء کے درمیان فوجی مشن جاری رکھنے کی بابت درکار سرمایے کے حوالے سے بات چیت ہو گی۔ اس کے علاوہ افغانستان میں غیرملکی فوجیوں کی تعداد کے علاوہ افغان فورسز کی تربیت کے حوالے سے پروگرامز کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔