1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’اسلامک اسٹیٹ‘ کی جیل پر فضائی حملہ، درجنوں ہلاکتیں

پیر کے روز شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی ایک جیل پر امریکی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کے طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں درجنوں افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

شامی تنازعے پر نگاہ رکھنے والی اپوزیشن کی مبصر تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے مشرقی شام میں اسلامک اسٹیٹ کی جیل کو نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے میں کم از کم 57 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کی جانچ پڑتال میں مصروف ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق پیر کی علی الصبح بین الاقوامی اتحادی طیاروں نے المیادین کے علاقے میں قائم شدت پسند تنظیم کی اس جیل کی عمارت کو نشانہ بنایا۔ آبزرویٹری کے مطابق ہلاک ہونے والے یہ افراد شدت پسند تنظیم کے قیدی تھے۔

شام کے سرکاری ٹی وی چینل الاخباریہ نے بھی مشرقی شہر دیرالزور میں اتحادی طیاروں نے اسلامک اسٹیٹ کی اس جیل پر بمباری کی اطلاعات دی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں نے اس جیل میں ’بہت بڑی تعداد‘ میں عام شہریوں کو قیدی بنا رکھا تھا۔

Syrien IS Offensive auf Deir el-Zour ARCHIV (picture alliance/ZUMA Press/Handout)

اسلامک اسٹیٹ کو کئی محاذوں پر پسپائی کا سامنا ہے

امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے ترجمان کرنل ریان ڈیلون کے مطابق، ’’ہم ہر ایسی اطلاع کو توجہ سے جائزہ لیتے ہیں اور چھان بین کرتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’اگر ہم عام شہریوں ہلاکتوں کے ذمہ دار ہوئے تو ہم واضح طور پر قبول کریں گے۔‘‘ تاہم انہوں نے کہا کہ آبزرویٹری بعض خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق متعدد علاقوں میں پسپائی کی وجہ سے اپنے زیادہ تر رہنماؤں کو المیادین کی جانب لے آئی ہے۔ یہ علاقہ زیرمحاصرہ علاقے الرقہ کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ اسی علاقے میں شدت پسند تنظیم نے اپنا پروپیگنڈا مرکز بھی قائم کر رکھا ہے، جہاں سے یہ یورپ اور دنیا کے دیگر علاقوں میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی اور ترغیب کا کام انجام دیتی ہے۔ تاہم حالیہ کچھ عرصے میں شام اور عراق میں اس تنظیم کو مسلسل ناکامیوں کا سامنا ہے اور اس کے زیرقبضہ علاقے مسلسل بازیاب ہوتے جا رہے ہیں۔