1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلامک اسٹیٹ کا اہم کمانڈر لبنانی فوجیوں کے ہاتھ لگ گیا

لبنانی فوج نے کہا ہے کہ اُس نے جہادی تنظیم’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ایک اہم کمانڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دوطرفہ فائرنگ میں جہادی کمانڈر شدید زخمی ہو گیا ہے۔

جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے کمانڈر کی گرفتاری  عرسال کے اہم قصبے میں سے کی گئی ہے۔ لبنانی فوج نے محاصرے میں لے کر مشتبہ جہادیوں کو گرفتار کیا۔ اس گرفتاری سے قبل فریقین نے ایک دوسرے پر شدید فائرنگ بھی کی۔ اس لڑائی کے دوران جہادی کمانڈر چھپ کر نکلنے کی کوشش میں تھا کہ ایک گولی سے شدید زخمی ہو گیا۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے اُسے بیروت کے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے مگر طبی ذرائع کے مطابق اُس کی حالت نازک ہے۔

لبنانی فوج نے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے کمانڈر کا نام احمد یوسف آمون بتایا ہے۔ آمون کو لبنان اور شام کی سرحد کے دونوں طرف ایک انتہائی خطرناک جنگجو کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ عرسال کے مشرقی پہاڑی علاقوں میں واقع ایک مکان میں اُس نے اپنا خفیہ ٹھکانا قائم کر رکھا تھا۔

Libanon Grenze Militär (AFP/Getty Images)

عرسال آپریشن میں لبنان کی سکیورٹی کی ایک بڑی تعداد شریک تھی

سکیورٹی ذرائع کے مطابق آمون شامی علاقوں میں بھی خاصا سرگرم رہ چکا ہے۔ وہ لبنان میں بھی دہشت گردی کی کئی وارداتوں میں ملوث خیال کیا جاتا ہے۔ اُس کے دیگر دس ساتھیوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ لبنانی سکیورٹی کے مطابق آمون بیروت سمیت ایک وسیع علاقے پر داعش کی جانب سے امیر مقرر کیا گیا تھا۔ مخبری کے بعد فوجی کارروائی میں لبنانی فوج اور کمانڈوز نے حصہ لیا۔ اس فوجی کارروائی میں خودکار ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا گیا۔ آپریشن کے دوران فوجی ہیلی کاپٹر فضا میں گشت کرتا رہا۔

عرسال کا اہم اسٹرٹیجیک قصبہ لبنان اور شام کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ حجم اور آبادی کے اعتبار سے یہ کوئی بڑا قصبہ نہیں ہے لیکن فوج کی آمد و رفت کے علاوہ جہادیوں کی سرگرمیوں کا مرکز بھی خیال کیا جاتا ہے۔